صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1156. (3) بَابُ ذِكْرِ إِسْقَاطِ فَرْضِ الْجُمُعَةِ عَنِ النِّسَاءِ،
عورت سے جمعہ کی فرضیت ساقط ہونے کا بیان
حدیث نمبر: Q1722
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّهَ- عَزَّ وَجَلَّ- خَاطَبَ بِالْأَمْرِ بِالسَّعْيِ إِلَى الْجُمُعَةِ عِنْدَ النِّدَاءِ بِهَا فِي قَوْلِهِ: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ الْآيَةَ، الرِّجَالَ دُونَ النِّسَاءِ إِنْ ثَبَتَ هَذَا الْخَبَرُ مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ، وَإِنْ لَمْ يَثْبُتْ فَاتِّفَاقُ الْعُلَمَاءِ عَلَى إِسْقَاطِ فَرْضِ الْجُمُعَةِ عَنِ النِّسَاءِ كَافٍ مِنْ نَقْلِ خَبَرِ الْخَاصِّ فِيهِ.
حدیث نمبر: 1722
نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، نا وَكِيعٌ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عُثْمَانَ الْكِلابِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا جَمَعَ نِسَاءَ الأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ , فَأَتَانَا عُمَرُ، فَقَامَ عَلَى الْبَابِ فَسَلَّمَ , فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ السَّلامَ , فَقَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُنَّ , فَقُلْنَا: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ , قَالَ: أَتُبَايِعْنَ عَلَى أَنْ لا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا , وَلا تَسْرِقْنَ , وَلا تَزْنِينَ؟ قَالَتْ: قُلْنَا: نَعَمْ , فَمَدَدْنَا أَيْدِيَنَا مِنْ دَاخِلِ الْبَيْتِ , وَمَدَّ يَدَهُ مِنْ خَارِجٍ
جناب اسماعیل بن عبد الرحمان بن عطیہ انصاری روایت کرتے ہیں کہ مجھے میری دادی نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری عورتوں کو ایک گھر میں جمع کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے۔ وہ دروازے پر کھڑے ہوگئے اور سلام کیا، ہم نے اُن کے سلام کا جواب دیا۔ پھر اُنہوں نے فرمایا کہ میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں۔ ہم نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے پیام رساں کو خوش آمدید۔ اُنہوں نے کہا کہ کیا تم اس شرط پر بیعت کرتی ہو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراؤگی، نہ چوری کروگی نہ زنا کاری میں مبتلا ہوگی؟ وہ فرماتی ہیں، ہم نے جواب دیا کہ جی ہاں۔ لہذا ہم نے گھر کے اندر ہی سے اپنے ہاتھ (بیعت کے لئے) بڑھائے اور اُنہوں نے باہر سے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ وہ فرماتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حُکم دیا کہ ہم عیدین کے روز حیض والی کنواری لڑکیوں کو بھی نکالا کریں اور ہمیں جنازوں کی اتباع سے منع کردیا گیا، اور ہم پر جمعہ فرض نہیں ہے۔ اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے اُن سے کہا، وہ کون سا معروف کام ہے جس سے تمہیں منع کیا گیا؟ اُنہوں نے فرمایا کہ نوحہ گری سے منع کیا گیا۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الجمعة/حدیث: 1722]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 324، 351، 971، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 890، وابن الجارود فى "المنتقى"، 115، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1466، 1467، 1722، 1723، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2816، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1418، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 388، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1136، والترمذي فى (جامعه) برقم: 539، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1307، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5719، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21121»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أم عطية الأنصارية، أم عطية | صحابية |
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1722 in Urdu