🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1158. (5) بَابُ ذِكْرِ الْجُمُعَةِ الَّتِي جُمِعَتْ بَعْدَ الْجُمُعَةِ الَّتِي جُمِعَتْ بِالْمَدِينَةِ، وَذِكْرِ الْمَوْضِعِ الَّذِي جُمِعَ بِهِ.
مدینہ منوّرہ میں پڑھے گئے جمعہ کے بعد پڑھے جانے والے جمعہ اور اس کے مقام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1725
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ وَهُوَ ابْنُ طَهْمَانَ , عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ بَعْدَ جُمُعَةٍ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدُ عَبْدِ الْقَيْسِ بِجُوَاثَى مِنَ الْبَحْرَيْنِ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں ادا کئے گئے جمعہ کے بعد سب سے پہلا جمعہ بحرین کے علاقے جواثی میں عبد القیس کی مسجد میں ادا کیا گیا۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الجمعة/حدیث: 1725]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 892، 4371، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1725، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1068، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5685، 5686، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 37116، والطبراني فى(الكبير) برقم: 12957، 12958»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥نصر بن عمران الضبعي، أبو جمرة
Newنصر بن عمران الضبعي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم بن طهمان الهروي، أبو سعيد
Newإبراهيم بن طهمان الهروي ← نصر بن عمران الضبعي
ثقة
👤←👥عبد الملك بن عمرو القيسي، أبو عامر
Newعبد الملك بن عمرو القيسي ← إبراهيم بن طهمان الهروي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← عبد الملك بن عمرو القيسي
ثقة حافظ
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1725 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1725
فوائد:
➊ یہ احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ بستیوں وغیرہ میں جمعہ کا انعقاد جائز و مباح ہے اور احناف کا اس حدیث ❀ «لَا جُمُعَةَ وَلَا تَشْرِيقَ إِلَّا فِى مِصْرٍ جَامِعٍ» (جمعہ اور تشریق کا اہتمام کسی بڑے شہر ہی میں جائز ہے۔) سے استدلال کرنا درست نہیں ہے۔
کیونکہ یہ حدیث بمجموع الطرق ضعیف ہے۔ [الضعيف: 916]
➋ نماز جمعہ کو شہر سے مشروط کرنا درست نہیں، کیونکہ اس بارے میں کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں۔
پھر احناف کا عمل اپنے اس موقف کے مخالف ہے، اور آج احناف بستیوں اور دیہاتوں میں جمعہ کا انعقاد کرتے ہیں، جو فقہ حنفی کے خلاف ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1725]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1725 in Urdu