🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
جمعہ کے دن خوشبو لگانے کے حُکم کا بیان۔ کیونکہ خوشبو لگانا مسلمان کے واجبی حقوق میں سے ہے، بشرطیکہ اس کے پاس خوشبو موجود ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1761
نا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يُحَدِّثُ , عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَغْتَسِلَ كُلَّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ , وَأَنْ يَمَسَّ طِيبًا إِنْ وَجَدَهُ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”ہر مسلمان پر سات دن کے بعد غسل کرنا واجب ہے ـ اور اگر اُس کے پاس خوشبو ہو تو خوشبو لگائے ـ“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1761]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 238، 876، 896، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 849، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1720، 1761، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1234، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1366، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1083، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1439، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1578، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7430»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥طاوس بن كيسان اليماني، أبو عبد الرحمن
Newطاوس بن كيسان اليماني ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام فاضل
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← طاوس بن كيسان اليماني
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥روح بن عبادة القيسي، أبو محمد
Newروح بن عبادة القيسي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥يحيى بن حبيب الحارثي، أبو زكريا
Newيحيى بن حبيب الحارثي ← روح بن عبادة القيسي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1761 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1761
فوائد:
◄ جمعہ کے دن اگر خوشبو میسر ہو تو اس کا استعمال مستحب عمل ہے۔
اور اگر خوشبو دستیاب نہ ہو تو اہل خانہ کی خوشبو استعمال کرنے کی تاکید ہے۔
ہر صورت جمعہ کے اجتماع میں نہانے اور خوشبو لگانے کے حکم میں حکمت یہ ہے کہ اجتماع گاہ بدبو اور تعفن سے محفوظ رہے اور عطربیز ماحول سامعین کی دلجمعی کا باعث بنے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1761]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1761 in Urdu