صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
امام کا مؤذن کو «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» کو حذف کرکے اس کی جگہ پر ”نماز اپنے گھروں میں ادا کرلو“ کے الفاظ کہنے کا حُکم دینا
حدیث نمبر: 1865
نا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ صَاحِبِ الزِّيَادِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ لِمُؤَذِّنِهِ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ:" إِذَا قُلْتَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَلا تَقُلْ: حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، قُلْ: صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ". فَكَأَنَّ النَّاسَ اسْتَنْكَرُوا ذَلِكَ. فَقَالَ:" أَتَعْجَبُونَ مِنْ ذَا، فَقَدْ فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي. إِنَّ الْجُمُعَةَ عَزْمَةٌ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُخْرِجَكُمْ فَتَمْشُوا فِي الطِّينِ وَالدَّحَضِ"
جناب عبداللہ بن حارث سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک بارش والے دن اپنے مؤذن سے کہا کہ جب تم «وَأَشْهَدُ أَنْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ ٱللَّٰه» کہہ لو تو «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» نہ کہنا بلکہ «صَلُّوْ فِيْ بُيُوْتِكُمْ» ”نماز اپنے گھروں میں پڑھ لو“ کے الفاظ کہنا ـ تو گویا لوگوں نے اس بات کو ناپسند کیا تو اُنہوں نے فرمایا کہ کیا تم اس بات پر تعجب کرتے ہو، حالانکہ یہ کام اس ہستی نے بھی کیا ہے جو مجھ سے اعلیٰ اور افضل ہیں ـ بیشک جمعہ فرض ہے اور بلاشبہ میں نے یہ بات ناپسند کی کہ تمہیں (تمہارے گھروں سے) نکالوں اور تم مٹی اور کیچڑ میں چل کر (مسجد میں آؤ)۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1865]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 616، 668، 901، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 699، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1864، 1865، 1866، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1053، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1066، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 938، 939، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1894، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2544»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1865 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1865
فوائد:
➊ اب جمعہ کے وقت بارش ہو رہی ہو تو جمعہ میں شامل نہ ہونے کی رخصت ہے اور جمعہ میں حاضر ہونے کی فرضیت ساقط ہو جاتی ہے۔
➋ بارش کی صورت میں اذانِ جمعہ میں «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» اور «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» کی جگہ «صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ» کہنا مشروع ہے۔
➌ بارش جمعہ اور نمازِ با جماعت ترک کرنے کے شرعی اعذار میں سے ایک عذر ہے۔ جس کے باعث جمعہ اور نمازِ با جماعت ترک کرنے کی رخصت ہے۔
➊ اب جمعہ کے وقت بارش ہو رہی ہو تو جمعہ میں شامل نہ ہونے کی رخصت ہے اور جمعہ میں حاضر ہونے کی فرضیت ساقط ہو جاتی ہے۔
➋ بارش کی صورت میں اذانِ جمعہ میں «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» اور «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» کی جگہ «صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ» کہنا مشروع ہے۔
➌ بارش جمعہ اور نمازِ با جماعت ترک کرنے کے شرعی اعذار میں سے ایک عذر ہے۔ جس کے باعث جمعہ اور نمازِ با جماعت ترک کرنے کی رخصت ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1865]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1865 in Urdu