صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ دوسری فجر جو ہم نے ذکر کی ہے وہ چوڑائی میں پھیلنے والی سفیدی ہے اور اس کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے - بشر طیکہ روایت صحیح ہو- کیونکہ میں عبداللہ بن نعمان کے بارے میں جرح وتعدیل نہیں جانتا- اور ملازم بن عمرو کے سوا اُن سے روایت کرنے والا کوئی شاگرد بھی مجھے معلوم نہیں ہے -
حدیث نمبر: 1930
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، نا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ النُّعْمَانِ السُّحَيْمِيُّ ، قَالَ: أَتَانِي قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ فِي رَمَضَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي طَلْقُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُلُوا وَاشْرَبُوا، وَلا يَغُرَّنَّكُمُ السَّاطِعُ الْمُصْعِدُ، وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَعْتَرِضَ لَكُمُ الأَحْمَرُ". وَأَشَارَ بِيَدِهِ
جناب طلق بن علی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(سحری) کھاتے اور پیتے رہو اور تم کو اوپر چڑھنے والی سفید روشنی دھوکے میں نہ ڈالے۔ اور تم کھاتے پیتے رہو حتّیٰ کہ تمہارے لئے سرخ دھاری واضح ہو جائے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1930]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1930، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2348، والترمذي فى (جامعه) برقم: 705، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2188، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9162»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1930 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1930
فوائد:
➊ فجر کی دو اقسام ہیں:
1 فجر کاذب: فجر صادق سے کچھ دیر قبل طلوع ہوتی ہے اور اس کے طلوع کی علامت یہ ہے کہ آسمان کی طرف بھیڑیے کی دم کی مثل روشنی اُٹھتی ہے۔ اس وقت روزہ دار کے لیے کھانا پینا حلال ہے اور یہ اباحتِ طعام کا وقت ہے۔
2 فجر صادق: یہ فجر کاذب کے کچھ دیر بعد نمودار ہوتی ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ اس وقت روشنی مشرق میں پورے افق پر چوڑائی کے رخ میں پھیلتی ہے۔ یہ سحری کے اختتام کا وقت ہے اور اس وقت روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے۔
➋ صبح صادق کا وقت نماز فجر کی اذانِ ثانی کا وقت ہے اور اس وقت تک روزہ دار کو کھانے پینے کی رخصت ہے اور طلوعِ فجرِ صادق پر روزے کا آغاز اور سحری کا اختتام ہو جاتا ہے۔ لہذا اذانِ فجر پر یا طلوعِ فجر کے ساتھ ہی سحری کو سمیٹ لینا چاہیے۔
➊ فجر کی دو اقسام ہیں:
1 فجر کاذب: فجر صادق سے کچھ دیر قبل طلوع ہوتی ہے اور اس کے طلوع کی علامت یہ ہے کہ آسمان کی طرف بھیڑیے کی دم کی مثل روشنی اُٹھتی ہے۔ اس وقت روزہ دار کے لیے کھانا پینا حلال ہے اور یہ اباحتِ طعام کا وقت ہے۔
2 فجر صادق: یہ فجر کاذب کے کچھ دیر بعد نمودار ہوتی ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ اس وقت روشنی مشرق میں پورے افق پر چوڑائی کے رخ میں پھیلتی ہے۔ یہ سحری کے اختتام کا وقت ہے اور اس وقت روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے۔
➋ صبح صادق کا وقت نماز فجر کی اذانِ ثانی کا وقت ہے اور اس وقت تک روزہ دار کو کھانے پینے کی رخصت ہے اور طلوعِ فجرِ صادق پر روزے کا آغاز اور سحری کا اختتام ہو جاتا ہے۔ لہذا اذانِ فجر پر یا طلوعِ فجر کے ساتھ ہی سحری کو سمیٹ لینا چاہیے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1930]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1930 in Urdu
قيس بن طلق الحنفي ← طلق بن علي الحنفي