🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
اس بات کی دلیل کا بیان کہ ناک میں ڈالنے والی دوا اور ہر وہ چیز جو نتھنوں کے ذریعے سے ناک میں چلی جائے، اس سے روزے دار کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1985
خَبَرُ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَإِذَا اسْتَنْشَقْتَ فَبَالِغْ، إِلا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا"
حضرت لقیط بن صبرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ناک میں پانی چڑھاؤ تو خوب اچھی طرح چڑھاؤ، سوائے اس کے کہ تم روزے کی حالت میں ہو۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1985]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، 0»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥لقيط بن عامر العقيلي، أبو رزينصحابي
👤←👥عاصم بن أبي رزين العقيلي
Newعاصم بن أبي رزين العقيلي ← لقيط بن عامر العقيلي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1985 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1985
فوائد:
➊ استنشاق ناک کے اندر پانی داخل کرنا، پھر اسے سانس کے ذریعے ناک کے بالائی حصے کی طرف کھینچنا ہے۔ دورانِ وضو کلی اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرنا مستحب فعل ہے، لیکن حالتِ روزہ میں استنشاق مکروہ ہے۔ [شرح النووي: 1/373]
➋ حالتِ روزہ میں استنشاق میں مبالغہ مکروہ ہے تاکہ اس سے پیٹ کے اندر پانی داخل ہو کر روزہ فاسد نہ ہو جائے۔ [تحفة الأحوذي: 2/330]
➌ ◈ امام خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اگر روزہ دار کے اپنے فعل سے پانی دماغ تک پہنچ جائے تو اس کا روزہ فاسد ہو جائے گا۔ علیٰ ہٰذا القیاس ہر چیز جو روزہ دار کے پیٹ میں پہنچ جائے، وہ حنوط (یا سعوط) وغیرہ کسی بھی ذریعہ سے پیٹ میں داخل ہو جائے، اس سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔ [تحفة الأحوذي: 2/330]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1985]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1985 in Urdu