صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
روزے دار کو بیویوں کے سروں اور اُن کے چہروں کا بوسہ لینے کی رخصت ہے۔ اُن علماء کے مذہب کے برخلاف جو اسے مکروہ سمجھتے ہیں
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ جناب عبداللہ بن شقیق کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں (اپنی بیویوں کے) سروں کا بوسہ لے لیتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2002]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، 0»
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2002 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2002
فوائد:
➊ حالتِ روزہ میں بوس و کنار سے روزہ باطل نہیں ہوتا اور بیوی کو بوسہ دینا جائز و مباح ہے، اس میں کراہت نہیں۔
➋ جو شخص اپنے جذبات کو قابو میں رکھ سکے اس کے لیے بوس و کنار کی رخصت ہے اور جو جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور اس سے جماع کا مرتکب ہو اس کے لیے روزہ میں بیوی کو بوسہ دینا مکروہ ہے۔
➊ حالتِ روزہ میں بوس و کنار سے روزہ باطل نہیں ہوتا اور بیوی کو بوسہ دینا جائز و مباح ہے، اس میں کراہت نہیں۔
➋ جو شخص اپنے جذبات کو قابو میں رکھ سکے اس کے لیے بوس و کنار کی رخصت ہے اور جو جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور اس سے جماع کا مرتکب ہو اس کے لیے روزہ میں بیوی کو بوسہ دینا مکروہ ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2002]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2002 in Urdu