صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
رمضان المبارک میں سفر کے دوران میں روزہ کھولنے کی اجازت کا بیان جبکہ دن کا کچھ حصّہ گزر چکا ہو۔ اور آدمی کی نیت بھی روزہ رکھنے کی ہو
حدیث نمبر: 2039
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيّ حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ , فَشَقَّ عَلَيْهِمُ الصَّوْمُ , فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ , فَشَرِبَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ , وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سفر میں تھے تو آپ کے صحابہ پر روزہ بہت شاق گزرا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر بیٹھے بیٹھے اسے نوش فرمایا جبکہ صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2039]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1947، 2890، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1118، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1033، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2032، 2033، 2039، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3559، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2282، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2405، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5523، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2302، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12463»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2039 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2039
فوائد:
➊ حالتِ سفر میں مسافر کو روزہ چھوڑنے کی رخصت ہے۔
➋ دورانِ سفر روزہ رکھنے کے بعد مسافر روزہ کی مشقت و تکلیف محسوس کرنے پر دن کے کسی بھی حصہ میں روزہ توڑ سکتا ہے، اس سے اس پر کوئی گناہ لازم نہیں آتا۔ لہٰذا مسافر روزہ دار روزہ کی مشقت محسوس کرنے پر دن کے کسی بھی حصہ میں روزہ توڑ سکتا ہے۔
➌ دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت مجاہدین روزہ ترک کر دیں، یہ ان کے لیے بہتر ہے کیونکہ اس سے حاصل ہونے والی قوت سے دشمن کا بہتر انداز سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
➍ سفر میں لوگ روزہ کی وجہ سے بدحال ہوں تو انہیں روزہ توڑنے کی تلقین کرنی چاہیے، پھر اس کے باوجود بھی لوگ روزہ نہ چھوڑیں تو امام خود اس کام کا آغاز کر دے۔ باقی لوگ بھی پیروی میں یہ کام سر انجام دیں گے۔
➊ حالتِ سفر میں مسافر کو روزہ چھوڑنے کی رخصت ہے۔
➋ دورانِ سفر روزہ رکھنے کے بعد مسافر روزہ کی مشقت و تکلیف محسوس کرنے پر دن کے کسی بھی حصہ میں روزہ توڑ سکتا ہے، اس سے اس پر کوئی گناہ لازم نہیں آتا۔ لہٰذا مسافر روزہ دار روزہ کی مشقت محسوس کرنے پر دن کے کسی بھی حصہ میں روزہ توڑ سکتا ہے۔
➌ دشمن سے مڈبھیڑ کے وقت مجاہدین روزہ ترک کر دیں، یہ ان کے لیے بہتر ہے کیونکہ اس سے حاصل ہونے والی قوت سے دشمن کا بہتر انداز سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
➍ سفر میں لوگ روزہ کی وجہ سے بدحال ہوں تو انہیں روزہ توڑنے کی تلقین کرنی چاہیے، پھر اس کے باوجود بھی لوگ روزہ نہ چھوڑیں تو امام خود اس کام کا آغاز کر دے۔ باقی لوگ بھی پیروی میں یہ کام سر انجام دیں گے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2039]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2039 in Urdu
بكر بن عبد الله المزني ← أنس بن مالك الأنصاري