صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
161. (160) بَابُ اسْتِحْبَابِ الْوُضُوءِ لِذِكْرِ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ الذِّكْرُ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ مُبَاحًا.
اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے وضو کرنا مستحب ہے اگرچہ وہ ذکر بغیر وضو بھی جائز ہو
حدیث نمبر: 206
نا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نا عَبْدُ الأَعْلَى ، نا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هُوَ ابْنُ أَبِي سَاسَانَ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذِ بْنِ عُمَرَ بْنِ جُدْعَانَ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَضَّأَ، ثُمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ إِلا عَلَى طُهْرٍ" أَوْ قَالَ:" عَلَى طَهَارَةٍ". وَكَانَ الْحَسَنُ يَأْخُذُ بِهِ
سیدنا مہاجر بن قنفذ بن عمر بن جدعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر رہے تھے، اُنہوں نے آپکو سلام کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے سلام کا جواب نہ دیا حتیٰ کہ وضو کر لیا (اور سلام کا جواب دیا) اس سے معذرت کی اور فرمایا: ”میں نے ناپسند کیا کہ میں بغیر طہارت کے اللہ تعالیٰ کا ذکر کروں۔“ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اس حدیث کے مطابق عمل کرتے تھے۔ یعنی سلام کا جواب با وضو حالت میں دیتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضول التطهير والاستحباب من غير إيجاب/حدیث: 206]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 206، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 803، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 596، 6080، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 38، وأبو داود فى (سننه) برقم: 17، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2683، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 350، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 429، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19339»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 206 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 206
فوائد:
یہ حدیث دلیل ہے کہ باوضو ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اور سلام دعا کا جواب دینا افضل عمل ہے۔
لیکن یہ ممنوع فعل نہیں کیونکہ آئندہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ وضو اور غیر وضو کی صورت میں ذکر و اذکار کا اہتمام کرنا جائز ہے۔
یہ حدیث دلیل ہے کہ باوضو ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اور سلام دعا کا جواب دینا افضل عمل ہے۔
لیکن یہ ممنوع فعل نہیں کیونکہ آئندہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ وضو اور غیر وضو کی صورت میں ذکر و اذکار کا اہتمام کرنا جائز ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 206]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 206 in Urdu
حضين بن المنذر الرقاشي ← المهاجر بن قنفذ القرشي