🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ماہ محرم کی نوتاریخ کو روزہ رکھنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2098
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ , عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الأَعْرَجِ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ، قَالَ: " هُوَ يَوْمُ التَّاسِعِ". قُلْتُ: كَذَلِكَ صَامَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے عاشوراء کے دن کے بارے میں فرمایا کہ وہ نو تاریخ کا دن ہے۔ میں نے عرض کیا تو کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح (نو تاریخ کا) روزہ رکھتے تھے؟ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2098]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1133، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2096، 2097، 2098، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3633، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2872، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2446، والترمذي فى (جامعه) برقم: 754، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8492، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2167»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥الحكم بن عبد الله الثقفي
Newالحكم بن عبد الله الثقفي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥حاجب بن عمر الثقفي، أبو خشينة
Newحاجب بن عمر الثقفي ← الحكم بن عبد الله الثقفي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← حاجب بن عمر الثقفي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة متقن
👤←👥عبدة بن عبد الله الخزاعي، أبو سهل
Newعبدة بن عبد الله الخزاعي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2098 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2098
فوائد:
➊ ◈ امام شافعی، اصحابِ شافعی، احمد اور اسحاق کا موقف ہے کہ نو اور دس محرم دونوں دن کا روزہ رکھنا مستحب فعل ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس محرم کا روزہ رکھا اور نو محرم کے روزے کی نیت کی، لہٰذا دونوں دن روزہ رکھنا مستحب ہے۔ [شرح النووي: 12/8]
➋ دس کے روزے کے ساتھ نو کے روزے کی نیت میں یہود کی مخالفت مقصود ہے، لہٰذا نو محرم کا روزہ ساتھ ملانے سے عاشوراء کے روزے کی فضیلت بھی حاصل ہو جاتی ہے اور مخالفت بھی۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2098]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2098 in Urdu