صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمل غیر مفسر الفاظ کے ساتھ مروی حدیث کا بیان جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرفہ کے دن کے روزے کی ممانعت میں ذکر ہوئی ہے
حدیث نمبر: 2100
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّعْلَبِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَوْمُ عَرَفَةَ، وَيَوْمُ النَّحْرِ، وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الإِسْلامِ، وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ" . حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ اللَّخْمِيِّ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عرفہ کا دن، قربانی کا دن اور تشریق کے دن ہم اہل اسلام کی عید کے دن ہیں اور وہ کھانے پینے کے دن ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2100]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2100، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3603، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1591، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3004، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2419، والترمذي فى (جامعه) برقم: 773، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1805، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8553، 8554، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17653»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2100 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2100
فوائد:
اس حدیث سے یہ استدلال کرنا کہ عرفہ کا روزہ رکھنا ممنوع ہے، درست نہیں کیونکہ یہ روایت مجمل ہے اور مفسر روایات میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے کی فضیلت ثابت ہے۔
لہذا ان روایات میں تطبیق یوں ہوگی، کہ میدانِ عرفات میں عرفہ کے دن روزہ چھوڑنا روزہ رکھنے سے افضل ہے کیونکہ یہ حجاج کرام کے اجتماع کا دن ہے اور اس دن مناسک حج کی ادائیگی کے لیے بے روزہ ہونا افضل ہے تاکہ تمام مناسک احسن انداز سے ادا کیے جاسکیں۔
اس حدیث سے یہ استدلال کرنا کہ عرفہ کا روزہ رکھنا ممنوع ہے، درست نہیں کیونکہ یہ روایت مجمل ہے اور مفسر روایات میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے کی فضیلت ثابت ہے۔
لہذا ان روایات میں تطبیق یوں ہوگی، کہ میدانِ عرفات میں عرفہ کے دن روزہ چھوڑنا روزہ رکھنے سے افضل ہے کیونکہ یہ حجاج کرام کے اجتماع کا دن ہے اور اس دن مناسک حج کی ادائیگی کے لیے بے روزہ ہونا افضل ہے تاکہ تمام مناسک احسن انداز سے ادا کیے جاسکیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2100]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2100 in Urdu
سعيد بن سالم الكوفي ← موسى بن علي اللخمي