صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
پیر کا روزہ رکھنا مستحب ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولادت باسعادت اس دن ہوئی، اسی دن آپ کی طرف وحی بھیجی گئی اور اسی دن آپ کی وفات ہوئی
حدیث نمبر: 2118
وَحَدِيثُ وَحَدِيثُ شُعْبَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ، فَغَضِبَ، وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ الاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ، قَالَ: " ذَاكَ يَوْمٌ يَعْنِي الاثْنَيْنِ، وُلِدْتُ فِيهِ، وَبُعِثْتُ فِيهِ" ، أَوْ قَالَ:" أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ". وَفِي حَدِيثِ شُعْبَةَ: سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ
امام شعبہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ سخت ناراض ہوگئے اور آپ سے پیر اور جمعرات کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیر والے دن میری ولادت ہوئی اور اس دن مجھے نبوت عطا کی گئی یا فرمایا: ”اسی دن مجھ پر وحی نازل کی گئی۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2118]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبو داود: 2426، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2118، والترمذي: 752، 749»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام | ثقة حافظ متقن عابد |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2118 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2118
فوائد:
➊ سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھنا مستحب عمل ہے، کیونکہ ان دونوں دنوں میں روزہ رکھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دائمی عمل تھا۔
➋ سوموار کا روزہ رکھنا مستحب ہے، کیونکہ اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا آغاز ہوا تھا۔ لہٰذا اس خوشی کے شکریہ کے طور پر روزہ رکھنا مستحب عمل ہے۔
➊ سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھنا مستحب عمل ہے، کیونکہ ان دونوں دنوں میں روزہ رکھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دائمی عمل تھا۔
➋ سوموار کا روزہ رکھنا مستحب ہے، کیونکہ اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا آغاز ہوا تھا۔ لہٰذا اس خوشی کے شکریہ کے طور پر روزہ رکھنا مستحب عمل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2118]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2118 in Urdu