صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ ہر مہینے تین روزے رکھنے کا حُکم استحبابی ہے، وجوبی نہیں
بنی عامر بن صعصعہ کے فرس جناب مطرف بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ نے انہیں پلانے کے لئے دودھ منگوایا تو جناب مطرف نے عرض کی کہ میں روزے سے ہوں۔ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ” روزہ جہنّم کی آگ سے بچاؤ کی ایسی ہی ڈھال ہے جیسی تم میں سے کسی شخص کی جنگ میں بچاؤ کی ڈھال ہوتی ہے۔“ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بہترین روزے ہر مہینے کے تین روزے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2125]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1891، 2125، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3649، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2229، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1639، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16531»
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2125 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2125
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ ہر مہینے کے تین روزے واجب نہیں، بلکہ مستحب ہیں۔
➋ ہر مہینے تین روزوں کا حکم استحبابی حکم ہے، وجوبی نہیں۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ ہر مہینے کے تین روزے واجب نہیں، بلکہ مستحب ہیں۔
➋ ہر مہینے تین روزوں کا حکم استحبابی حکم ہے، وجوبی نہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2125]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2125 in Urdu