صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
ایک مہینے میں مسلسل روزے رکھنا اور پھرمسلسل روزے نہ رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2135
أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى أَعْرِفَ عَنْهُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى أَقُولَ: مَا هُوَ بِصَائِمٍ، وَكَانَ أَكْثَرُ صِيَامِهِ فِي شَعْبَانَ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے حتّیٰ کہ مجھے معلوم ہو جاتا۔ اور آپ روزے رکھنا چھوڑ دیتے حتّیٰ کہ میں کہتی کہ آپ روزے نہیں رکھیں گے اور آپ اکثر روزے شعبان میں رکھتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2135]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2135، وانفرد به المصنف من هذا الطريق»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥عبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي، أبو محمد عبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي ← هشام بن عروة الأسدي | وكان فقيها، صدوق تغير حفظه لما قدم بغداد | |
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد عبد الله بن وهب القرشي ← عبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي | ثقة حافظ | |
👤←👥محمد بن عبد الله البالسي، أبو عبد الله محمد بن عبد الله البالسي ← عبد الله بن وهب القرشي | ثقة |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2135 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2135
فوائد:
➊ ◈ مہلب رحمہ اللہ کہتے ہیں: (احادیث الباب دلیل ہیں کہ) نفل اعمال معین اوقات کے ساتھ مختص نہیں، بلکہ ان کا مدار ارادہ و نشاط پر ہے (چنانچہ جب طبیعت میں نشاط ہو تو بلا تعیین نفلی اعمال کیے جا سکتے ہیں)۔ [شرح ابن بطال: 7/ 135]
➋ ◈ نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ احادیث الباب دلیل ہیں کہ ہر مہینے میں نفلی روزے رکھنا مستحب فعل ہے۔
➌ نفلی روزے معین اوقات کے ساتھ مختص نہیں بلکہ رمضان، عید اور ایام تشریق کے سوا سال بھر ہی نفلی روزے رکھنا جائز ہیں۔ [شرح النووي: 4/ 161]
➊ ◈ مہلب رحمہ اللہ کہتے ہیں: (احادیث الباب دلیل ہیں کہ) نفل اعمال معین اوقات کے ساتھ مختص نہیں، بلکہ ان کا مدار ارادہ و نشاط پر ہے (چنانچہ جب طبیعت میں نشاط ہو تو بلا تعیین نفلی اعمال کیے جا سکتے ہیں)۔ [شرح ابن بطال: 7/ 135]
➋ ◈ نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ احادیث الباب دلیل ہیں کہ ہر مہینے میں نفلی روزے رکھنا مستحب فعل ہے۔
➌ نفلی روزے معین اوقات کے ساتھ مختص نہیں بلکہ رمضان، عید اور ایام تشریق کے سوا سال بھر ہی نفلی روزے رکھنا جائز ہیں۔ [شرح النووي: 4/ 161]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2135]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2135 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق