صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نفلی روزہ رکھنے کے بعد، اس دن کے روزے کی نیت کرنے کے بعد کھولنا جائز ہے، ان علماء کے مذہب کے برخلاف جو کہتے ہیں کہ اس پر اس روزے کی قضا ادا کرنا واجب ہے
حدیث نمبر: 2144
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ . ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ الْعُمَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ سَلْمَانَ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، فَجَاءَ سَلْمَانُ يَزُورُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَوَجَدَ أُمَّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً، فَقَالَ لَهَا: مَا شَأْنُكِ؟ فَقَالَتْ: إِنَّ أَخَاكَ لَيْسَتْ لَهُ حَاجَةٌ فِي الدُّنْيَا. زَادَ يُوسُفُ: يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ، قَالا: فَلَمَّا جَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ، فَرَحَّبَ بِهِ، وَقَرَّبَ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَقَالَ لَهُ: كُلْ. فَقَالَ: أَوَلَسْتُ أَطْعَمُ؟ فَقَالَ: مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ. فَأَكَلَ مَعَهُ وَبَاتَ عِنْدَهُ. فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ذَهَبَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَقُومُ، فَحَبَسَهُ سَلْمَانُ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْفَجْرِ، قَالَ: قُمِ الآنَ. فَقَامَا فَصَلَّيَا، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ:" إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلأَهْلِكَ وَلِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ". فَأَمَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" صَدَقَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ"
سیدنا اب جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمان اور ابودرداء رضی اللہ عنہما کے درمیان اخوت کا رشتہ قائم کیا تھا تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ، سیدنا ابودردا ء رضی اللہ عنہ کی ملاقات کے لئے آئے تو ُانہوں نے سیدنا ام الدرداء رضی اللہ عنہ کو میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو انہوں نے اُس سے پو چھا: ”تمہیں کیا ہوا ہے (اس قدر بد حال کیوں ہو؟) اُس نے جواب دیا کہ تمہارے بھائی کو دنیا سے کچھ غرض نہیں ہے (اس لئے مجھے بھی بننے سنورنے کی ضرورت نہیں) جناب یوسف کی روایت میں یہ اضافہ ہیں کہ وہ دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو نفل پڑھتا رہتا ہے۔ پھر جب سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ گھر آئے تو اُنہوں نے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کو خوش آمدید کہا اور اُنہیں کھانا پیش کیا اور کہا کہ کھایئے۔ تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا، کیا آپ نہیں کھائیں گے اور میں کھالوں؟ میں اُس وقت تک نہیں کھاوَں گا جب تک آپ نہیں کھائیں گے۔ تو اُنہوں نے سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھانا کھایا اور اِن ہی کے ہاں رات بسر کی۔ پھر جب رات کا آخری پہر ہوا تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے کے لئے اُٹھنے لگے تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے انہیں روک دیا۔ پھر جب فجر کا وقت قریب ہوا تو فرمایا کہ اب ُاٹھو، چنانچہ وہ دونوں اُٹھے اور نماز تہجّد ادا کی تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا کہ بیشک تم پر تمہارے رب کا حق ہے، اور تمہاری جان کا بھی حق ہے اور تمہارے گھر والوں اور تمہارے مہمان کا بھی حق ہے، تو ہر حق والے کو اُس کا حق ادا کرو۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے آگاہ کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلمان فارسی (رضی اللہ عنہ) نے بالکل سچ فرمایا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2144]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1968، 6139، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2144، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 320، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2413، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8434، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2235»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2144 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2144
فوائد:
➊ زوالِ آفتاب سے قبل سورج چڑھنے کے بعد نفلی روزہ کی نیت کرنا جائز ہے۔ جمہور علماء کا بھی موقف ہے۔
➋ نفلی روزہ توڑنا جائز ہے۔ [شرح النووي: 157/4]
❀ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِيرُ نَفْسِهِ، إِنْ شَاءَ صَامَ، وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ»
”نفلی روزہ دار اپنے نفس کا امیر ہے۔ اگر چاہے تو روزہ رکھے اور اگر چاہے تو روزہ افطار کر دے۔“
لہٰذا نفلی روزے دار کا روزہ ترک کرنا جائز و مباح ہے اور اس عمل سے نہ وہ گناہ گار ہوتا ہے اور نہ اس پر قضا لازم آتی ہے۔ [صحيح الجامع الصغير: 3854]
➌ مہمان کے اصرار پر نفلی روزہ توڑنا جائز ہے۔ خواہ روزہ دار نے روزہ جاری رکھنے کی نیت کی ہو۔ اس عمل سے وہ گناہ گار نہیں ہوتا اور نہ اس پر روزہ کی قضا لازم آتی ہے۔
➊ زوالِ آفتاب سے قبل سورج چڑھنے کے بعد نفلی روزہ کی نیت کرنا جائز ہے۔ جمہور علماء کا بھی موقف ہے۔
➋ نفلی روزہ توڑنا جائز ہے۔ [شرح النووي: 157/4]
❀ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِيرُ نَفْسِهِ، إِنْ شَاءَ صَامَ، وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ»
”نفلی روزہ دار اپنے نفس کا امیر ہے۔ اگر چاہے تو روزہ رکھے اور اگر چاہے تو روزہ افطار کر دے۔“
لہٰذا نفلی روزے دار کا روزہ ترک کرنا جائز و مباح ہے اور اس عمل سے نہ وہ گناہ گار ہوتا ہے اور نہ اس پر قضا لازم آتی ہے۔ [صحيح الجامع الصغير: 3854]
➌ مہمان کے اصرار پر نفلی روزہ توڑنا جائز ہے۔ خواہ روزہ دار نے روزہ جاری رکھنے کی نیت کی ہو۔ اس عمل سے وہ گناہ گار نہیں ہوتا اور نہ اس پر روزہ کی قضا لازم آتی ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2144]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2144 in Urdu
عون بن أبي جحيفة السوائي ← وهب بن وهب السوائي