صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
168. (167) باب استحباب الوضوء للجنب إذا أراد الأكل.
جنبی شخص جب کچھ کھانا چاہے تو اس کے لیے وضو کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 215
نا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں کچھ کھانے یا سونے کا ارادہ کرتے تو وضو کرلیتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضول التطهير والاستحباب من غير إيجاب/حدیث: 215]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 286، 288، 1146، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 305، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 213، 215، 218، 259، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1217، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 255، وأبو داود فى (سننه) برقم: 222، 1363، والترمذي فى (جامعه) برقم: 118، 119، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 581، 582، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 982، والدارقطني فى (سننه) برقم: 453، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24717»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 215 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 215
فوائد:
➊ ◈ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جنبی کے لیے غسل سے قبل سونا، کھانا پینا اور جماع کرنا جائز ہے، یہ مجمع علیہ مسئلہ ہے۔
نیز علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ جنبی کا بدن و پسینہ طاہر (پاک) ہیں اور ان تمام امور (سونے، کھانے پینے اور دوبارہ جماع کرنے) کے لیے جنبی کا شرمگاہ دھونا اور وضو کرنا مستحب عمل ہے، جماع سے قبل شرمگاہ دھونے کی خاص تاکید ہے۔
شافعیہ کا واضح موقف ہے کہ جنبی کا وضو سے قبل سونا، کھانا پینا اور دوبارہ جماع کرنا مکروہ ہے۔
اور شافعیہ کا اس مسئلہ میں اتفاق ہے کہ ان امور کے لیے وضو واجب نہیں ہے اور امام مالک اور جمہور علماء کا بھی یہی موقف ہے۔“ [شرح صحيح مسلم للنووي: 3/ 217]
➋ جنبی کے لیے مستحب ہے کہ وہ کھانے پینے، سونے اور دوبارہ جماع کرنے سے قبل نماز والا وضو کرے۔
اس سے مراد شرعی وضو ہے، لغوی وضو (صرف ہاتھ دھونا) مقصود نہیں ہے۔
➊ ◈ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جنبی کے لیے غسل سے قبل سونا، کھانا پینا اور جماع کرنا جائز ہے، یہ مجمع علیہ مسئلہ ہے۔
نیز علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ جنبی کا بدن و پسینہ طاہر (پاک) ہیں اور ان تمام امور (سونے، کھانے پینے اور دوبارہ جماع کرنے) کے لیے جنبی کا شرمگاہ دھونا اور وضو کرنا مستحب عمل ہے، جماع سے قبل شرمگاہ دھونے کی خاص تاکید ہے۔
شافعیہ کا واضح موقف ہے کہ جنبی کا وضو سے قبل سونا، کھانا پینا اور دوبارہ جماع کرنا مکروہ ہے۔
اور شافعیہ کا اس مسئلہ میں اتفاق ہے کہ ان امور کے لیے وضو واجب نہیں ہے اور امام مالک اور جمہور علماء کا بھی یہی موقف ہے۔“ [شرح صحيح مسلم للنووي: 3/ 217]
➋ جنبی کے لیے مستحب ہے کہ وہ کھانے پینے، سونے اور دوبارہ جماع کرنے سے قبل نماز والا وضو کرے۔
اس سے مراد شرعی وضو ہے، لغوی وضو (صرف ہاتھ دھونا) مقصود نہیں ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 215]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 215 in Urdu
الأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق