صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
عمر بھر روزے رکھنے کی رخصت جبکہ آدمی ممنوعہ دنوں کے روزے نہ رکھے
حدیث نمبر: 2153
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ أَسْرُدُ الصَّوْمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصُومُ وَلا أُفْطِرُ، أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَرَّجْتُ طُرُقَ هَذَا الْخَبَرِ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ
سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مسلسل روزے رکھا کرتا تھا تو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، بیشک میں بغیر ناغہ کیے مسلسل روزے رکھتا ہوں تو کیا میں سفر میں روزہ رکھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور اگر چاہو تو روزہ نہ رکھو۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں نے اس روایت کے دیگر طرق ایک اور مقام پر بیان کیے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2153]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1121، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1034، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2026، 2153، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3567، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1586، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2293، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2403، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8240، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2301، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16283»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2153 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2153
فوائد:
➊ اس حدیث سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ زمانہ بھر کے مسلسل روزے رکھنا مکروہ نہیں۔
لیکن اس حدیث سے یہ استدلال درست نہیں کیونکہ روزوں میں تسلسل زمانہ بھر کے ہمیشہ روزے نہ رکھنے پر بھی صادق آتا ہے۔ [فتح الباري: 196/6]
➋ سفر میں روزہ رکھنا اور روزہ ترک کرنا دونوں صورتیں جائز ہیں۔
➊ اس حدیث سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ زمانہ بھر کے مسلسل روزے رکھنا مکروہ نہیں۔
لیکن اس حدیث سے یہ استدلال درست نہیں کیونکہ روزوں میں تسلسل زمانہ بھر کے ہمیشہ روزے نہ رکھنے پر بھی صادق آتا ہے۔ [فتح الباري: 196/6]
➋ سفر میں روزہ رکھنا اور روزہ ترک کرنا دونوں صورتیں جائز ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2153]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2153 in Urdu
سليمان بن يسار الهلالي ← حمزة بن عمرو الأسلمي