صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کرنے والی روایت کی مفسر روایت کا بیان اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ ممانعت اس وقت ہے جب اکیلے جمعہ کے دن کا روزہ رکھا جائے اور اس سے پہلے یا بعد میں روزہ نہ رکھا جائے
حدیث نمبر: 2159
رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ أَبِيهِ
امام بخاری رحمه الله نے یہ روایت عمر بن حفص کی سند سے بیان کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2159]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، 0»
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2159 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2159
فوائد:
➊ (احادیث الباب دلیل ہیں کہ) جمعہ کا مفرد روزہ رکھنا مکروہ ہے۔
البتہ عادت کے مطابق جمعہ کا روزہ آ جائے یا جمعہ سے پہلے یا بعد میں ایک دن مزید روزہ رکھ لیا جائے تو یہ عمل مکروہ نہیں۔
مثلاً عادت کا روزہ یوں کہ کوئی شخص یہ نذر مانے کہ وہ مریض کی شفا کے دن کا ہمیشہ روزہ رکھے گا اور شفایابی کا دن جمعہ ہو تو اس دن روزہ رکھنا مکروہ نہیں۔
➋ ◈ علماء بیان کرتے ہیں کہ جمعہ کے روزہ کی ممانعت میں حکمت یہ ہے کہ جمعہ کا دن ذکر و دعا، غسل، نماز کے لیے جلدی جانے، نماز جمعہ کے انتظار، خطبہ کو بغور سننے اور دیگر عبادات اور اذکار کی کثرت کا دن ہے، لہذا اس دن روزہ چھوڑنا افضل ہے اور ان وظائف کی ادائیگی میں زیادہ معاون ہے۔ [شرح النووي: 8/19]
➊ (احادیث الباب دلیل ہیں کہ) جمعہ کا مفرد روزہ رکھنا مکروہ ہے۔
البتہ عادت کے مطابق جمعہ کا روزہ آ جائے یا جمعہ سے پہلے یا بعد میں ایک دن مزید روزہ رکھ لیا جائے تو یہ عمل مکروہ نہیں۔
مثلاً عادت کا روزہ یوں کہ کوئی شخص یہ نذر مانے کہ وہ مریض کی شفا کے دن کا ہمیشہ روزہ رکھے گا اور شفایابی کا دن جمعہ ہو تو اس دن روزہ رکھنا مکروہ نہیں۔
➋ ◈ علماء بیان کرتے ہیں کہ جمعہ کے روزہ کی ممانعت میں حکمت یہ ہے کہ جمعہ کا دن ذکر و دعا، غسل، نماز کے لیے جلدی جانے، نماز جمعہ کے انتظار، خطبہ کو بغور سننے اور دیگر عبادات اور اذکار کی کثرت کا دن ہے، لہذا اس دن روزہ چھوڑنا افضل ہے اور ان وظائف کی ادائیگی میں زیادہ معاون ہے۔ [شرح النووي: 8/19]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2159]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2159 in Urdu