صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جمعہ کا دن عید کا دن ہے اور جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت اس کے عید ہونے کی وجہ سے ہے اور جمعہ اور عیدین، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ میں فرق یہ ہے کہ ان دو دنوں میں روزے کی ممانعت اس طرح آئی ہے کہ ان سے ایک دن پہلے یا بعد میں بھی روزہ رکھ کر ان کا روزہ نہیں رکھا جاسکتا (جبکہ جمعہ کا روزہ اس طریقے سے رکھا جاسکتا ہے)
حدیث نمبر: 2161
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ لُدَيْنٍ الأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَوْمُ عِيدٍ، فَلا تَجْعَلُوا يَوْمَ عِيدِكُمْ يَوْمَ صِيَامِكُمْ، إِلا أَنْ تَصُومُوا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبُو بِشْرٍ هَذَا شَامِيٌّ، لَيْسَ بِأَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ صَاحِبِ شُعْبَةَ، وَهُشَيْمٍ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ”بیشک جمعہ کا دن عید کا دن ہے۔ لہٰذا تم اپنے عید والے دن روزہ مت رکھو الاّ یہ کہ اس سے پہلے یا اس کے بعد بھی روزہ رکھو۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ ابوبشر شامی ہے اور یہ ابوبشر جعفر بن ابی حشیہ نہیں ہے جو کہ امام شعبہ اور ہشیم کے ساتھی ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2161]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1985، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1144، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2158، 2161، 2166، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3614، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1601، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2769، 2770، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2420، والترمذي فى (جامعه) برقم: 743، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1723، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8580، 8581، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8140»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2161 in Urdu
عامر بن لدين الأشعري ← أبو هريرة الدوسي