صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
170. (169) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْوُضُوءَ الَّذِي أُمِرَ بِهِ الْجُنُبُ لِلْأَكْلِ كَوُضُوءِ الصَّلَاةِ سَوَاءً.
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جنبی شخص کو کچھ کھانے کے لیے جس وضو کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ نماز کے وضو جیسا وجو ہی ہے
حدیث نمبر: 217
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ الْوَرَّاقُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجُنُبِ، هَلْ يَأْكُلُ أَوْ يَنَامُ؟ قَالَ:" إِذَا تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ"
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنبی شخص کے متعلق پوچھا گیا کہ کیا وہ کچھ کھا سکتا ہے یا وہ سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ہاں) جب وہ نماز کے وضو جیسا وضو کرلے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضول التطهير والاستحباب من غير إيجاب/حدیث: 217]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 217، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 592»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 217 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 217
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ جنبی شخص غسل اور وضو کیے بغیر کھا پی سکتا ہے۔ [عون المعبود: 226/1]
➋ جبکہ سابقہ احادیث کی رو سے جنبی کے لیے حالتِ جنابت میں وضو کرنے کے بعد کھانا پینا افضل و مستحب ہے۔
➌ خلاصہ کلام یہ ہے کہ جنبی شخص کا غسل اور وضو کیے بغیر کھانا پینا کراہت کے ساتھ جائز ہے، لیکن کھانے پینے سے قبل باوضو ہونا افضل ہے۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ جنبی شخص غسل اور وضو کیے بغیر کھا پی سکتا ہے۔ [عون المعبود: 226/1]
➋ جبکہ سابقہ احادیث کی رو سے جنبی کے لیے حالتِ جنابت میں وضو کرنے کے بعد کھانا پینا افضل و مستحب ہے۔
➌ خلاصہ کلام یہ ہے کہ جنبی شخص کا غسل اور وضو کیے بغیر کھانا پینا کراہت کے ساتھ جائز ہے، لیکن کھانے پینے سے قبل باوضو ہونا افضل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 217]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 217 in Urdu
شرحبيل بن سعد الخطمي ← جابر بن عبد الله الأنصاري