صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صفیہ رضی اللہ عنہا کو اُن کے گھر کی طرف رخصت کرتے وقت، اُن کے ساتھ مسجد کے دروازے تک گئے تھے یہ نہیں کہ آپ مسجد سے نکل کر اُنہیں اُن کے گھر چھوڑکر آئے تھے
حدیث نمبر: 2234
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ ، أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ:" أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ فِي اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً، ثُمَّ قَامَتْ لِتَنْقَلِبَ، وَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ معها لِيَقْلِبَهَا، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ بَابَ الْمَسْجِدِ الَّذِي عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ مَرَّ بِهَا رَجُلانِ مِنَ الأَنْصَارِ" ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ بیان کرتی ہیں کہ وہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مسجد میں نبی کریم کی زیارت کے لئے حاضر ہوئیں جبکہ آپ اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے تو اُنہوں نے تھوڑی دیر آپ سے بات چیت کی پھر وہ واپس جانے کے لئے اُٹھ کھڑی ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُنہیں رخصت کرنے کے لئے اُٹھے۔ حتّیٰ کہ جب وہ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے قریب مسجد کے دروازے پر پہنچی تو اُن کے پاس سے دو انصاری صحابی گزرے۔ پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2234]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2035، 2038، 2039، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2175، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2233، 2234، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3671، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3320، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2470، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1779، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8690، 8697، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24271»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥صفية بنت حيي النضيرية | صحابي | |
👤←👥علي زين العابدين، أبو محمد، أبو الحسن، أبو الحسين علي زين العابدين ← صفية بنت حيي النضيرية | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← علي زين العابدين | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر شعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ متقن | |
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان الحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← الحكم بن نافع البهراني | ثقة حافظ جليل |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2234 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2234
فوائد:
➊ معتکف کا مباح امور میں مشغول ہونا یعنی زائر کے ساتھ چلنا، اس کے ساتھ کھڑے ہونا اور ہم کلام ہونا جائز ہے۔
➋ معتکف دورانِ اعتکاف بیوی سے تنہائی میں ملاقات کر سکتا ہے اور بیوی معتکف خاوند کی زیارت کر سکتی ہے۔
➌ ان احادیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر شفقت کا بیان ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت کو ایسے امور کی نصیحت کرتے تھے جو انہیں گناہوں سے روک دیں۔
➍ ایسے اعمال جو بدظنی کا باعث بنیں ان سے اجتناب اور شیطانی چالوں سے بچاؤ اختیار کرنا مشروع ہے اور انسان کو اس کا عذر پیش کرنا چاہیے۔ [فتح الباري: 326/6]
➊ معتکف کا مباح امور میں مشغول ہونا یعنی زائر کے ساتھ چلنا، اس کے ساتھ کھڑے ہونا اور ہم کلام ہونا جائز ہے۔
➋ معتکف دورانِ اعتکاف بیوی سے تنہائی میں ملاقات کر سکتا ہے اور بیوی معتکف خاوند کی زیارت کر سکتی ہے۔
➌ ان احادیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر شفقت کا بیان ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت کو ایسے امور کی نصیحت کرتے تھے جو انہیں گناہوں سے روک دیں۔
➍ ایسے اعمال جو بدظنی کا باعث بنیں ان سے اجتناب اور شیطانی چالوں سے بچاؤ اختیار کرنا مشروع ہے اور انسان کو اس کا عذر پیش کرنا چاہیے۔ [فتح الباري: 326/6]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2234]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2234 in Urdu
علي زين العابدين ← صفية بنت حيي النضيرية