صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1588. (33) بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الْمُسْتَقْصِي لِلَّفْظَةِ الْمُخْتَصَرَةِ الَّتِي ذَكَرْتُهَا فِي صَدَقَةِ [233- ب] الرَّقِيقِ،
غلام کی زکوٰۃ کے بارے میں مروی گزشتہ مختصر روایت کی مفصل روایت کا بیان
حدیث نمبر: 2289
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " لَيْسَ فِي الْعَبْدِ صَدَقَةٌ، إِلا صَدَقَةَ الْفِطْرِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”غلام میں سوائے صدقہ فطر کے کوئی زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة المواشي من الإبل والبقر والغنم/حدیث: 2289]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1463، 1464، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 982، وابن الجارود فى "المنتقى"، 390، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2285، 2286، 2287، 2288، 2289، 2396، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3271، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2466، والترمذي فى (جامعه) برقم: 628، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1812، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7492، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2023، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7415»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2289 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2289
فوائد:
یہ احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ غلام کا فطرانہ مالک کے ذمہ واجب ہے، خواہ غلام ذاتی استعمال کے لیے مختص ہو یا تجارت کے لیے۔
◈ مالک، شافعی اور جمہور علماء کا یہی موقف ہے۔
◈ اور اہل کوفہ کہتے ہیں کہ تجارت کے غلاموں میں فطرانہ مالک پر واجب نہیں۔ [شرح النووي: 7/55]
یہ احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ غلام کا فطرانہ مالک کے ذمہ واجب ہے، خواہ غلام ذاتی استعمال کے لیے مختص ہو یا تجارت کے لیے۔
◈ مالک، شافعی اور جمہور علماء کا یہی موقف ہے۔
◈ اور اہل کوفہ کہتے ہیں کہ تجارت کے غلاموں میں فطرانہ مالک پر واجب نہیں۔ [شرح النووي: 7/55]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2289]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2289 in Urdu
عراك بن مالك الغفاري ← أبو هريرة الدوسي