🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1588. ‏(‏33‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الْمُسْتَقْصِي لِلَّفْظَةِ الْمُخْتَصَرَةِ الَّتِي ذَكَرْتُهَا فِي صَدَقَةِ ‏[‏233- ب‏]‏ الرَّقِيقِ،
غلام کی زکوٰۃ کے بارے میں مروی گزشتہ مختصر روایت کی مفصل روایت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2289
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " لَيْسَ فِي الْعَبْدِ صَدَقَةٌ، إِلا صَدَقَةَ الْفِطْرِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”غلام میں سوائے صدقہ فطر کے کوئی زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة المواشي من الإبل والبقر والغنم/حدیث: 2289]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1463، 1464، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 982، وابن الجارود فى "المنتقى"، 390، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2285، 2286، 2287، 2288، 2289، 2396، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3271، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2466، والترمذي فى (جامعه) برقم: 628، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1812، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7492، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2023، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7415»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عراك بن مالك الغفاري
Newعراك بن مالك الغفاري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥بكير بن عبد الله القرشي، أبو يوسف، أبو عبد الله
Newبكير بن عبد الله القرشي ← عراك بن مالك الغفاري
ثقة
👤←👥مخرمة بن بكير القرشي، أبو المسور
Newمخرمة بن بكير القرشي ← بكير بن عبد الله القرشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← مخرمة بن بكير القرشي
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن عبد الرحمن القرشي، أبو عبيد الله
Newأحمد بن عبد الرحمن القرشي ← عبد الله بن وهب القرشي
ضعيف الحديث
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2289 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2289
فوائد:
یہ احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ غلام کا فطرانہ مالک کے ذمہ واجب ہے، خواہ غلام ذاتی استعمال کے لیے مختص ہو یا تجارت کے لیے۔
◈ مالک، شافعی اور جمہور علماء کا یہی موقف ہے۔
◈ اور اہل کوفہ کہتے ہیں کہ تجارت کے غلاموں میں فطرانہ مالک پر واجب نہیں۔ [شرح النووي: 7/55]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2289]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2289 in Urdu