صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1596. (41) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الزَّكَاةَ غَيْرُ وَاجِبَةٍ عَلَى الْحُلِيِّ، إِذِ اسْمُ الْوَرِقِ فِي لُغَةِ الْعَرَبِ الَّذِينَ خُوطِبْنَا بِلُغَتِهِمْ لَا يَقَعُ – عِلْمِي- عَلَى الْحُلِيِّ الَّذِي هُوَ مَتَاعٌ مَلْبُوسٌ.
اس بات کی دلیل کا بیان کہ چاندی کے زیورات میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے کیونکہ لغت عرب میں ورق (چاندی) کا اطلاق پہننے والے زیورات پر نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 2299
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يُونُسُ:" يَعْنِي لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْحَدِيثُ فِي كِتَابِ ابْنِ وَهْبٍ فِي عَقِبِ خَبَرِ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فِي خَبَرِ عِيَاضٍ مِثْلَهُ يَعْنِي مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ سے کم اونٹوں میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم کھجوروں میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے۔“ ابوبکر ابن خزیمہ کہتے ہیں یہ حدیث ابن وہب کی کتاب میں مالك عن محمد۔۔۔ عن ابي سعيد عن النبي کے بعد ہے۔ عیاض والی حدیث بھی ابوسعید کی حدیث کے مثل ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الورق/حدیث: 2299]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 980، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2298، 2299، 2304، 2305، 2306، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1457، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1794، 1833، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7516، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1901، 1906، 1922، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14379»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2299 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2299
فوائد:
ان احادیث سے یہ استدلال کرنا کہ زیورات میں زکوٰۃ نہیں، درست نہیں۔
بلکہ یہ احادیث نص ہیں کہ زیورات وغیرہ میں چاندی کی مقدار دو سو درہم ہونے کی صورت میں زکوٰۃ واجب ہے۔
لہٰذا جب زیورات کی مقدار دو سو درہم ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہو گی۔
ان احادیث سے یہ استدلال کرنا کہ زیورات میں زکوٰۃ نہیں، درست نہیں۔
بلکہ یہ احادیث نص ہیں کہ زیورات وغیرہ میں چاندی کی مقدار دو سو درہم ہونے کی صورت میں زکوٰۃ واجب ہے۔
لہٰذا جب زیورات کی مقدار دو سو درہم ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہو گی۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2299]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2299 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري