صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1599. (44) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَوْجَبَ فِي الْبُرِّ الزَّكَاةَ إِذَا بَلَغَ الْبُرُّ خَمْسَةَ أَوْسَاقٍ،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گندم میں زکوٰۃ اس وقت واجب قرار دی ہے جب اس کی مقدار پانچ وسق ہو جائے اور کھجور میں بھی جبکہ وہ پانچ وسق ہو جائے، یہ مراد نہیں کہ دونوں کو ملا کر پانچ وسق ہوجائیں تو ان میں زکوٰۃ فرض ہے
حدیث نمبر: 2303
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ ذَوْدٍ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے اور نہ پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ ہے اور نہ ہی پانچ وسق سے کم کھجوروں میں زکوٰۃ ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الحبوب والثمار/حدیث: 2303]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1405، 1447، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 979، ومالك فى (الموطأ) برقم: 832، وابن الجارود فى "المنتقى"، 375، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2263، 2293، 2294، 2295، 2301، 2302، 2303، 2305، 2310، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3268، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2444، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1558، والترمذي فى (جامعه) برقم: 626، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1793، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7343، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1899، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11187»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2303 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2303
فوائد:
➊ احادیث الباب دلیل ہیں کہ غلہ جات اور پھلوں کی زکاۃ کا نصاب کم از کم پانچ وسق ہے۔
پانچ وسق سے کم غلہ اور پھلوں میں زکاۃ واجب نہیں۔
➋ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔
ایک صاع دو کلو سو گرام اور پانچ وسق کی مقدار 630 کلوگرام یعنی 15 من 30 کلو گرام ہے۔
لہذا غلے کی کم از کم مقدار 15 من 30 کلوگرام ہو تو ایسی فصل کا عشر واجب ہے اور اتنی مقدار سے کم غلے میں عشر واجب نہیں۔
➊ احادیث الباب دلیل ہیں کہ غلہ جات اور پھلوں کی زکاۃ کا نصاب کم از کم پانچ وسق ہے۔
پانچ وسق سے کم غلہ اور پھلوں میں زکاۃ واجب نہیں۔
➋ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔
ایک صاع دو کلو سو گرام اور پانچ وسق کی مقدار 630 کلوگرام یعنی 15 من 30 کلو گرام ہے۔
لہذا غلے کی کم از کم مقدار 15 من 30 کلوگرام ہو تو ایسی فصل کا عشر واجب ہے اور اتنی مقدار سے کم غلے میں عشر واجب نہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2303]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2303 in Urdu
عبد الله بن عبد الرحمن الأنصاري ← أبو سعيد الخدري