صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1601. (46) بَابُ ذِكْرِ مَبْلَغِ الْوَاجِبِ مِنَ الصَّدَقَةِ فِي الْحُبُوبِ وَالثِّمَارِ،
اناج اور پھلوں میں واجب زکوٰۃ کی مقدار کا بیان
حدیث نمبر: 2309
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، وَحَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: قَالَ عَمْرٌو : وَحَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فِيمَا سَقَتِ الأَنْهَارُ وَالْغَيْمُ الْعُشُورُ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّانِيَةِ نِصْفُ الْعُشْرِ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَالَ لَنَا يُونُسُ مَرَّةً: أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ لَمْ يَقُلْ عِيسَى: وَالْغَيْمُ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو زمین بارشوں اور نہروں سے سیراب کی جائے اس میں دسواں حصّہ زکوٰۃ ہے اور جو کنویں سے ڈول کے ذریعے سے سیراب ہو اس میں بیسواں حصّہ زکوٰۃ واجب ہے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ یونس نے ہم سے کہا کہ ابو زبیر نے ان سے بیان کیا کہ عیسیٰ نے ابراہیم سے الغیم (بارش) کا لفظ بیان نہیں کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الحبوب والثمار/حدیث: 2309]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 981، وابن الجارود فى "المنتقى"، 382، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2309، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2488، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1597، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7582، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2037، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14892»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2309 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2309
فوائد:
➊ احادیث الباب دلیل ہیں کہ بارش، نہروں، چشموں اور زمین کی نمی سے سیراب ہونے والی زمین میں زکوٰۃ دسواں حصہ ہے، بشرطیکہ یہ فصل نصابِ عشر کو شامل ہو اور رہٹ، ٹیوب ویل اور ٹربائن وغیرہ سے سیراب ہونے والی زمین کی فصل میں واجب زکوٰۃ نصف عشر (بیسواں حصہ) ہے۔
➋ ◈ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں (احادیث الباب دلیل ہیں کہ) جو زمین بارش یا نہروں کے پانی سے سیراب ہو، جس سے زیادہ مشقت نہ اٹھانا پڑے تو اس میں عشر (دسواں حصہ) ہے اور جو زمین کنوؤں سے پانی کھینچ کر سیراب کی جائے اور اس کی سیرابی میں زیادہ مشقت اٹھانی پڑے ایسی زمین میں نصف عشر (بیسواں حصہ) زکوٰۃ ہے۔ یہ متفق علیہ مسئلہ ہے۔ [شرح النووي: 7/64]
➊ احادیث الباب دلیل ہیں کہ بارش، نہروں، چشموں اور زمین کی نمی سے سیراب ہونے والی زمین میں زکوٰۃ دسواں حصہ ہے، بشرطیکہ یہ فصل نصابِ عشر کو شامل ہو اور رہٹ، ٹیوب ویل اور ٹربائن وغیرہ سے سیراب ہونے والی زمین کی فصل میں واجب زکوٰۃ نصف عشر (بیسواں حصہ) ہے۔
➋ ◈ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں (احادیث الباب دلیل ہیں کہ) جو زمین بارش یا نہروں کے پانی سے سیراب ہو، جس سے زیادہ مشقت نہ اٹھانا پڑے تو اس میں عشر (دسواں حصہ) ہے اور جو زمین کنوؤں سے پانی کھینچ کر سیراب کی جائے اور اس کی سیرابی میں زیادہ مشقت اٹھانی پڑے ایسی زمین میں نصف عشر (بیسواں حصہ) زکوٰۃ ہے۔ یہ متفق علیہ مسئلہ ہے۔ [شرح النووي: 7/64]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2309]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2309 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري