🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1603. ‏(‏48‏)‏ بَابُ الزَّجْرِ عَنْ إِخْرَاجِ الْحُبُوبِ وَالتُّمُورِ الرَّدِيئَةِ فِي الصَّدَقَةِ،
زکوٰۃ کی ادائیگی میں خراب اناج اور ردی کھجوریں ادا کرنے پر وعید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2313
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي أَبَا الْعَوَّامِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ"
فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ هَذَا السَّخْلِ بِكَبَايِسَ قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي الشِّيصَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَاءَ بِهَذَا"، وَكَانَ لا يَجِيءُ أَحَدٌ بِشَيْءٍ إِلا نُسِبَ إِلَى الَّذِي جَاءَ بِهِ
وَنَزَلَتْ: وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ سورة البقرة آية 267، قَالَ:" وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجُعْرُورِ، وَلَوْنِ الْحُبَيْقِ أَنْ تُؤْخَذَا فِي الصَّدَقَةِ" ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: لَوْنَانِ ثَمَرٌ مِنْ ثَمَرِ الْمَدِينَةِ.
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کا حُکم دیا تو ایک شخص کھجور کے چند ایسے خوشے لایا جن کی گٹھلیاں کچی اور نرم تھیں۔ امام سفیان کہتے ہیں، یعنی شیص (پلپلی کھجوریں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ (نکمّی اور ردی کھجوریں) کون لایا ہے؟“ اور جو شخص جو چیز لیکرآتا تھا اس کی نسبت اس کی طرف کی جاتی تھی اور یہ آیت نازل ہوئی «‏‏‏‏وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ» ‏‏‏‏ [ سورة البقرة: 267 ] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ میں جعرور اور حبیق قسم کی کھجور یں وصول کرنے سے منع کردیا۔ امام زہری فرماتے ہیں کہ جعرور اور حبیق مدینہ منوّرہ کی کھجوروں کی دو قسمیں ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الحبوب والثمار/حدیث: 2313]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2313، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1465، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1607، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7619، 7620، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2038»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن حنيف الأنصاري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو ثابت، أبو الوليد، أبو سعدصحابي
👤←👥أسعد بن سهل الأنصاري، أبو أمامة
Newأسعد بن سهل الأنصاري ← سهل بن حنيف الأنصاري
له رؤية
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← أسعد بن سهل الأنصاري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن الحسين الواسطي، أبو محمد، أبو الحسن، أبو المؤمل
Newسفيان بن الحسين الواسطي ← محمد بن شهاب الزهري
صدوق يخطئ
👤←👥عباد بن العوام الكلابي، أبو سهل
Newعباد بن العوام الكلابي ← سفيان بن الحسين الواسطي
ثقة
👤←👥سعيد بن سليمان الضبي، أبو عثمان
Newسعيد بن سليمان الضبي ← عباد بن العوام الكلابي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← سعيد بن سليمان الضبي
ثقة حافظ جليل
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2313 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2313
فوائد:
➊ زکاۃ میں سے ردی اور گھٹیا چیزیں نکالنا جائز نہیں ہے۔ [المغني لابن قدامة: 3/5]
➋ احادیثِ باب دلیل ہیں کہ مالک کے لیے جائز نہیں کہ وہ عمدہ کھجور کی زکاۃ میں گھٹیا کھجوریں دے۔ کھجوروں میں ممانعت تو بطور نص موجود ہے اور باقی اجناس جن میں زکاۃ واجب ہو، وہ بھی بطور قیاس ممنوع ہیں۔ ایسے عاملِ زکاۃ کے لیے بھی جائز نہیں کہ وہ زکاۃ میں گھٹیا اور ردی چیزیں قبول کرے۔ [نيل الأوطار: 606/6]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2313]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2313 in Urdu