🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1633. ‏(‏78‏)‏ باب إعطاء الفقراء من الصدقة اتباعا لأمر الله فى قوله‏:‏ ‏[‏إنما الصدقات للفقراء‏]‏‏.‏ ‏[‏التوبة‏:‏ 60‏]‏
زکوٰۃ میں سے فقراء کو مال دینے کا بیان۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تعمیل کرتے ہوئے ہے «‏‏‏‏إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ….» ‏‏‏‏ [ سورۃ التوبة: 60 ] ”بلاشبہ زکوٰۃ فقراء کا حق ہے“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2358
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ ، حَدَّثَهُ عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَامٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّصْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، وَيَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ الْكِنَانِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ؟ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ: هَذَا الأَبْيَضُ، الرَّجُلُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ:" يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ أَجَبْتُكَ"، قَالَ لَهُ الرَّجُلُ: إِنِّي سَائِلُكَ، فَمُشَدِّدٌ مَسْأَلَتَكَ، فَلا تَأْخُذَنَّ فِي نَفْسِكَ عَلَيَّ، قَالَ:" سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ"، قَالَ: أَنْشُدُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ نَعَمْ"، قَالَ: أَنْشُدُ اللَّهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ؟ قَالَ:" اللَّهُمَّ نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَتَقْسِمُهَا عَلَى فُقَرَائِنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ الرَّجُلُ: قَدْ آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ، أَخُو سَعْدِ بْنِ الْحَكَمِ ، أَلْفَاظُهُمْ قَرِيبَةٌ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ، وَهَذَا حَدِيثُ ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ الصَّدَقَةَ الْمَفْرُوضَةَ غَيْرُ جَائِزٍ دَفْعَهَا إِلَى غَيْرِ الْمُسْلِمِينَ، وَإِنْ كَانُوا فُقَرَاءَ أَوْ مَسَاكِينَ، لأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمَ أَنَّ اللَّهَ أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَاءِ الْمُسْلِمِينَ، وَيَقْسِمُهَا عَلَى فُقَرَائِهِمْ لا عَلَى فُقَرَاءِ غَيْرِهِمْ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس دوران میں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے جب ایک شخص اونٹ پر سوار ہوکر مسجد میں داخل ہوا۔ اس نے اونٹ کو مسجد میں بٹھایا پھر اس کا گھٹنا رسی سے باندھ دیا پھر سوال کیا کہ تم میں سے محمد کون ہیں؟ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے درمیان ٹیک لگا کر تشریف فرما تھے تو ہم نے اُسے بتایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ سرخ سفید رنگ کے شخص ہیں جو ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں تو اُس نے کہا کہ اے عبدالمطلب کے بیٹے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کہو کیا کہنا چاہتے ہو) میں تمہاری بات سن رہا ہوں۔ اُس شخص نے آپ سے عرض کیا کہ بیشک میں آپ سے چند سوالات کروںگا اور سوال میں کچھ سختی ہوگی مگر آپ برا نہ مانیئے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جو پوچھنا چاہتے ہو پوچھ لو۔ اُس نے کہا کہ میں آپ کو آپ کے رب اور آپ سے پہلے کے تمام لوگوں کے رب کی قسم دیتا ہوں کیا آپ کو اللہ نے تمام لوگوں کا رسول بنایا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اُس نے پوچھا، میں آپ کو اللہ کی قسم دیکر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپ کو دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حُکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں اُس نے پھر کہا تو میں آپ کو اللہ کی قسم دیکرپوچھتا ہوں کیا اللہ نے آپ کو حُکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مالداروں سے زکوٰۃ وصول کرکے ہمارے فقراء میں تقسیم کردیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ تو اس شخص نے کہا کہ آپ جو دین لائے ہیں اس پر ایمان لاتا ہوں اور میں اپنے پیچھے اپنی قوم کا قاصد ہوں اور میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے۔ میں سعد بن حکم کے خاندان سے ہوں۔ یہ روایت جناب وہب کی ہے۔ تمام راویوں کی روایات کے الفاظ قریب قریب ہیں۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس مسئلے کی دلیل ہے کہ زکوٰۃ کا مال کافروں کو دینا جائز نہیں ہے اگرچہ وہ فقراء اور مساکین ہی کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مالدار مسلمانوں سے زکوٰۃ وصول کرکے مسلمانوں ہی کے فقراء میں تقسیم کرنے کا حُکم دیا ہے۔ کافر فقراء کو دینے کا حُکم نہیں دیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2358]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 63، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2358، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 154، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2091، وأبو داود فى (سننه) برقم: 486، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1402، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4400، 13258، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12916»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥شريك بن عبد الله الليثي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله الليثي ← أنس بن مالك الأنصاري
صدوق يخطئ
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد
Newسعيد بن أبي سعيد المقبري ← شريك بن عبد الله الليثي
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥يحيى بن بكير القرشي، أبو زكريا
Newيحيى بن بكير القرشي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة
👤←👥النضر بن عبد الجبار المرادي، أبو الأسود
Newالنضر بن عبد الجبار المرادي ← يحيى بن بكير القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن عمرو الكلبي
Newمحمد بن عمرو الكلبي ← النضر بن عبد الجبار المرادي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← محمد بن عمرو الكلبي
صحابي
👤←👥شريك بن عبد الله الليثي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله الليثي ← أنس بن مالك الأنصاري
صدوق يخطئ
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد
Newسعيد بن أبي سعيد المقبري ← شريك بن عبد الله الليثي
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة حافظ
👤←👥يونس بن عبد الأعلي الصدفي، أبو موسى
Newيونس بن عبد الأعلي الصدفي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2358 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2358
فوائد:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں کی طرف رسول ہیں اور آپ کی بعثت کے بعد آپ کی رسالت کے اقرار کے بغیر کسی بھی انسان کی بخشش ناممکن ہے۔
➋ اگر کوئی طالب حق سوال کرتے ہوئے سخت الفاظ بھی استعمال کرے تو داعی و مبلغ برا محسوس نہ کرے، بلکہ تحمل و بردباری سے سائل کو مطمئن کرے۔
➌ دن رات میں فقط پانچ نمازیں فرض ہیں، باقی نوافل و موکدہ سنتیں ہیں۔
➍ مصارفِ زکوٰۃ آٹھ ہیں۔ ان میں سے ایک مصرف فقراء ہیں۔ اگر جس علاقے سے زکوٰۃ وصول کی جا رہی ہے اس میں فقراء و مساکین کی بہتات ہے، تو حاکم تمام زکوٰۃ وہیں صرف کر سکتا ہے اور اگر زکوٰۃ کا کچھ حصہ اپنے علاقے کے فقراء پر اور باقی مصارف پر بھی خرچ کرنے کی گنجائش ہے تو تمام مصارفِ زکوٰۃ پر زکوٰۃ خرچ کی جائے اور اس علاقے کے قرب و جوار اور دور کے مسلمان فقراء بھی اس کے مستحق ٹھہریں گے، بشرطیکہ گنجائش و آسانی ہو۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2358]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2358 in Urdu