صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1636. (81) باب الرخصة فى إعطاء من له ضيعة من الصدقة، إذا أصابت غلته جائحة أذهبت غلته قدر ما يسد فاقته
جس شخص کی زرعی زمین ہو اور آفت آنے سے اس کا غلہ برباد ہو جائے تو اسے زکوٰۃ میں سے بقدر ضرورت و حاجت دینا جائز ہے
حدیث نمبر: 2361
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ رِيَابٍ ، حَدَّثَنَا كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيُّ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ الْهِلالِيِّ ، قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَسْأَلُهُ فِيهَا، فَقَالَ:" أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ، حَتَّى تَأْتِيَنِي الصَّدَقَةُ فَآمُرُ لَكَ بِهَا"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الصَّدَقَةَ لا تَحِلُّ، إِلا لأَحَدِ ثَلاثَةٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ , أَوْ قَالَ: سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ، فَحَلَّتْ لَهُ الصَّدَقَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، فَمَا سِوَى ذَلِكَ يَا قَبِيصَةُ، سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا"
سیدنا قبیصہ بن مخارق الہلالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک تاوان اپنے ذمے لیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس میں تعاون کے لئے حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قبیصہ، زکوٰۃ کا مال آنے تک ہمارے پاس ٹھہرے رہو۔ (جب مال آئے گا) تو میں تمہارے ساتھ تعاون کا حُکم دے دوںگا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک زکوٰۃ کا مال صرف تین قسم کے افراد کے لئے حلال ہے۔ ایک وہ شخص جو کوئی تاوان اپنے ذمے لے لے تو اُس کے لئے تعاون کا سوال کرنا حلال ہوجاتا ہے حتّیٰ کہ بقدر گزارہ مال حاصل کرلے۔ دوسرا وہ شخص جسے کوئی آفت پہنچے جس سے اس کا سارا مال ضائع ہوجائے تو اس کے لئے سوال کرنا حلال ہے حتّیٰ کہ وہ بقدر ضرورت مال پالے۔ تیسرا وہ شخص جسے فقر و فاقہ پہنچ جائے تو اس کے لئے زکوٰۃ کا مال حلال ہے حتّیٰ کہ گزارے کے لئے مال حاصل کرلے۔ اس کے علاوہ مانگنا اے قبیصہ حرام ہے، اور مانگنے والا حرام کھاتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2361]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1044، وابن الجارود فى "المنتقى"، 404، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2359، 2360، 2361، 2375، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3291، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1640، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1720، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11518، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1995، 1996، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16161، والحميدي فى (مسنده) برقم: 838»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2361 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2361
فوائد:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ صرف تین آدمیوں کے لیے بھیک مانگنا حلال ہے۔ ان کے علاوہ دیگر اشخاص جو ان تین اوصاف سے متصف نہیں، ان کے لیے مانگنا اور ہاتھ پھیلانا جائز نہیں، کیونکہ جو شخص مال بڑھانے یا راحت طلبی کی خاطر بھیک مانگتا ہے اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے، اس کے بارے میں شریعت میں سخت وعید وارد ہوئی ہے۔
❀ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«مَنْ سَأَلَ النَّاسَ تَكَثُّرًا، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا، فَلْيَسْتَقِلَّ لِيَسْتَكْثِرْ .»
”جو لوگوں سے مال بڑھانے کے لیے مانگتا ہے، وہ تو صرف آگ کا انگارا ہی طلب کرتا ہے، وہ اسے کم کرلے یا زیادہ کر لے۔“ [صحيح مسلم: 1041، سنن ابن ماجة: 1838]
❀ نیز صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلسل بھیک مانگنے والا روزِ قیامت اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ٹکڑا تک نہ ہوگا۔“ [صحيح مسلم: 1040]
لہٰذا بلا عذر اور بلا حاجت بھیک مانگنا یا لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا ناجائز و حرام ہے۔ فقط تین اشخاص مستثنیٰ ہیں جو ضرورت و حاجت کے وقت بھیک مانگ سکتے اور لوگوں سے مال کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔
➊ وہ شخص جو کسی کا ضامن بنے۔ مثلاً فریقین میں قرض کے معاملے پر جھگڑا ہوا اور تیسرا شخص یہ کہہ کر صلح کرا دے کہ اگر مقروض نے فلاں تاریخ تک قرض نہ دیا تو میں اس کا ضامن ہوں۔ پھر متعلقہ تاریخ کو قرض ادا نہ ہونے کی صورت میں ضامن لوگوں سے رقم وصول کر کے قرض اتار سکتا ہے۔ ایسی صورت میں اس کے لیے لوگوں سے مانگنا جائز و مباح ہے۔
➋ ایسا شخص جو باغ کرائے پر لیتا ہے اور پھل پکنے کے وقت طوفان، آندھی یا کوئی آسمانی آفت باغ کا پھل ضائع کر دیتی ہے، تو اس صورت میں یہ اپنے نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے لوگوں سے سوال کر سکتا ہے اور ایسے شخص کی مدد و اعانت کرنا جائز ہے۔
➌ فاقہ زدہ شخص جس کی فاقہ کشی پر تین سمجھدار افراد گواہی دیں، اسے مال دینا جائز ہے اور ایسا شخص صدقات و خیرات کا مستحق ہے۔
یہ احادیث دلیل ہیں کہ صرف تین آدمیوں کے لیے بھیک مانگنا حلال ہے۔ ان کے علاوہ دیگر اشخاص جو ان تین اوصاف سے متصف نہیں، ان کے لیے مانگنا اور ہاتھ پھیلانا جائز نہیں، کیونکہ جو شخص مال بڑھانے یا راحت طلبی کی خاطر بھیک مانگتا ہے اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے، اس کے بارے میں شریعت میں سخت وعید وارد ہوئی ہے۔
❀ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«مَنْ سَأَلَ النَّاسَ تَكَثُّرًا، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا، فَلْيَسْتَقِلَّ لِيَسْتَكْثِرْ .»
”جو لوگوں سے مال بڑھانے کے لیے مانگتا ہے، وہ تو صرف آگ کا انگارا ہی طلب کرتا ہے، وہ اسے کم کرلے یا زیادہ کر لے۔“ [صحيح مسلم: 1041، سنن ابن ماجة: 1838]
❀ نیز صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلسل بھیک مانگنے والا روزِ قیامت اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ٹکڑا تک نہ ہوگا۔“ [صحيح مسلم: 1040]
لہٰذا بلا عذر اور بلا حاجت بھیک مانگنا یا لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا ناجائز و حرام ہے۔ فقط تین اشخاص مستثنیٰ ہیں جو ضرورت و حاجت کے وقت بھیک مانگ سکتے اور لوگوں سے مال کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔
➊ وہ شخص جو کسی کا ضامن بنے۔ مثلاً فریقین میں قرض کے معاملے پر جھگڑا ہوا اور تیسرا شخص یہ کہہ کر صلح کرا دے کہ اگر مقروض نے فلاں تاریخ تک قرض نہ دیا تو میں اس کا ضامن ہوں۔ پھر متعلقہ تاریخ کو قرض ادا نہ ہونے کی صورت میں ضامن لوگوں سے رقم وصول کر کے قرض اتار سکتا ہے۔ ایسی صورت میں اس کے لیے لوگوں سے مانگنا جائز و مباح ہے۔
➋ ایسا شخص جو باغ کرائے پر لیتا ہے اور پھل پکنے کے وقت طوفان، آندھی یا کوئی آسمانی آفت باغ کا پھل ضائع کر دیتی ہے، تو اس صورت میں یہ اپنے نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے لوگوں سے سوال کر سکتا ہے اور ایسے شخص کی مدد و اعانت کرنا جائز ہے۔
➌ فاقہ زدہ شخص جس کی فاقہ کشی پر تین سمجھدار افراد گواہی دیں، اسے مال دینا جائز ہے اور ایسا شخص صدقات و خیرات کا مستحق ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2361]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2361 in Urdu
كنانة بن نعيم العدوي ← قبيصة بن المخارق الهلالي