صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1638. (83) بَابُ ذِكْرِ صِفَةِ الْمُسْكِينَ الَّذِي أَمَرَ اللَّهُ بِإِعْطَائِهِمْ مِنَ الصَّدَقَةِ
ان مسلمانوں کی صفات کا بیان جنہیں اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے مال سے عطا کرنے کا حُکم دیا ہے
حدیث نمبر: 2363
حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالطَّوَّافِ، وَلا بِالَّذِي تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ، وَلا اللُّقْمَتَانِ، وَلا التَّمْرَةُ وَلا التَّمْرَتَانِ، وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الْمُتَعَفِّفَ الَّذِي لا يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا، وَلا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اصلی) مسکین وہ نہیں جو سوال کرتا پھرتا ہے اور نہ وہ ہے جسے ایک یا دو لقمے، ایک یا دو کھجوریں در بدر پھراتی ہیں۔ لیکن حقیقی مسکین وہ ہے جو لوگوں سے سوال کرنے سے بچتا ہے اور نہ لوگ اس کے حال سے باخبر ہوتے ہیں کہ اس پر صدقہ کر دیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2363]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1476، 1479، 4539، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1039، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3414، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2363، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3298، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2570، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1631، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7962، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7655»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2363 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2363
فوائد:
➊ کامل مسکین جو صدقہ و زکوٰۃ کا زیادہ مستحق اور زیادہ ضرورت مند ہے وہ در در پر پھرنے والا منگتا نہیں ہوتا، بلکہ حقیقی مسکین وہ شخص ہے جو اپنی ضروریات پوری نہ کر سکے اور اس کی سفید پوشی عیاں بھی نہ ہو اور وہ لوگوں کے سامنے دستِ سوال دراز بھی نہ کرتا ہو۔
نیز اس میں گھر گھر پر بھیک مانگنے والے کے متعلق یہ انکار نہیں کہ وہ مسکین نہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ اپنی حاجات لوگوں کے سامنے رکھنے والا کامل مسکین نہیں ہے۔ [شرح النووي: 129/7]
➋ ایسے سفید پوش افراد جو لوگوں سے مانگنے سے شرماتے ہیں اور اپنی پردہ داری ظاہر نہیں ہونے دیتے، صدقہ و خیرات کے اصل مستحق یہ ہیں۔
لہذا دیگر فقراء و مساکین کی طرح ان کی بھی مالی اعانت کرنی چاہیے اور مدد اس انداز میں کی جائے کہ ان کی دل آزاری نہ ہو اور لوگوں کے ہاں ان کی خستہ حالی بھی عیاں نہ ہو۔
➊ کامل مسکین جو صدقہ و زکوٰۃ کا زیادہ مستحق اور زیادہ ضرورت مند ہے وہ در در پر پھرنے والا منگتا نہیں ہوتا، بلکہ حقیقی مسکین وہ شخص ہے جو اپنی ضروریات پوری نہ کر سکے اور اس کی سفید پوشی عیاں بھی نہ ہو اور وہ لوگوں کے سامنے دستِ سوال دراز بھی نہ کرتا ہو۔
نیز اس میں گھر گھر پر بھیک مانگنے والے کے متعلق یہ انکار نہیں کہ وہ مسکین نہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ اپنی حاجات لوگوں کے سامنے رکھنے والا کامل مسکین نہیں ہے۔ [شرح النووي: 129/7]
➋ ایسے سفید پوش افراد جو لوگوں سے مانگنے سے شرماتے ہیں اور اپنی پردہ داری ظاہر نہیں ہونے دیتے، صدقہ و خیرات کے اصل مستحق یہ ہیں۔
لہذا دیگر فقراء و مساکین کی طرح ان کی بھی مالی اعانت کرنی چاہیے اور مدد اس انداز میں کی جائے کہ ان کی دل آزاری نہ ہو اور لوگوں کے ہاں ان کی خستہ حالی بھی عیاں نہ ہو۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2363]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2363 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي