صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1654. (99) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي قَسْمِ الْمَرْءِ صَدَقَتَهُ مِنْ غَيْرِ دَفْعِهَا إِلَى الْوَالِي،
امیر و گورنر کو زکوٰۃ ادا کرنے کی بجائے آدمی بذاتِ خود بھی مستحقین میں تقسیم کرسکتا ہے۔
حدیث نمبر: Q2383
قَالَ اللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ-: [إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ] الْآيَةَ [الْبَقَرَةِ: 271]
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ» [ سورة البقرة: 271 ] ”اگر تم اعلانیہ صدقات دو تو یہ اچھی بات ہے اور اگر تم اسے چھپا کر فقیروں کو دو تو وہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے ...“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: Q2383]
حدیث نمبر: 2383
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانٍ ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى بْنِ عِيسَى الْمَرْوَزِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزَوَانَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَأَبُو جَعْفَرٍ مُوسَى بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: السَّلامُ عَلَيْكَ يَا غُلامَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: وَعَلَيْكَ، قَالَ: إِنِّي رَجُلٌ مِنْ بَيَاضٍ الَّذِي مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ، وَأَنَا رَسُولُ قَوْمِي إِلَيْكَ وَوَافِدُهُمْ، وَإِنِّي سَائِلُكَ، فَمُشَدِّدٌ مَسْأَلَتِي إِيَّاكَ، وَمُنَاشِدُكَ، فَمُشَدِّدٌ مُنَاشَدَتِي إِيَّاكَ، قَالَ:" خُذْ عَنْكَ يَا أَخَا ابْنِ سَعْدٍ"، قَالَ: مَنْ خَلَقَكَ؟ وَمَنْ خَلَقَ مَنْ قَبْلَكَ؟ وَمَنْ هُوَ خَالِقُ مَنْ بَعْدَكَ؟ قَالَ:" اللَّهُ"، قَالَ: فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ هُوَ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا فِي كِتَابِكَ، وَأَمَّرْتَنَا رُسُلا أَنْ تَأْخُذَ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِنَا، فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِنَا، فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ أَهُوَ أَمَرَكَ بِذَلِكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ سورة البقرة آية 271 مِنْ هَذَا الْبَابِ أَيْضًا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو اُس نے کہا کہ اے بنی عبدالمطلب کے بیٹے «السَّلامُ عَلَيْك» ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَعَلَيْك» اور تم پر بھی سلامتی ہو۔“ اُس نے کہا کہ میں نبی سعد بن بکر کی شاخ بیاض کا ایک آدمی ہوں۔ اور میں اپنی قوم کا پیغامبر اور آپ کی طرف اُن کا قاصد ہوں میں آپ سے چند سوالات کروںگا اور اس پوچھنے میں سختی کروںگا میں آپ کو قسم دوںگا اور قسم دینے میں بھی سخت رویہ اختیار کروںگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن سعد کے بھائی، جو چاہو پوچھو۔“ اُس نے کہا کہ آپ کو کس نے پیدا کیا ہے۔ آپ سے پہلے لوگوں کو کس نے پیدا کیا تھا اور آپ کے بعد آنے والوں کو کون پیدا کرنے والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ“ اُس نے کہا تو میں آپ کو اُسی اللہ کی قسم دیکر پوچھتا ہوں، کیا اُس نے تمہیں رسول بنایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ اس نے کہا، بلاشبہ ہم نے آپ کے خط میں پڑھا ہے اور آپ کے عامل نے بھی بتایا ہے کہ ہمارے جانوروں کی زکوٰۃ وصول کریگا اور ہمارے فقراء میں تقسیم کریگا؟ تو میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ نے آپ کو اس بات کا حُکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد «إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ» [ سورة البقرة: 271 ] ”اگر تم ظاہر کرکے صدقہ کرو وہ اچھا ہے۔“ اسی مسئلے کے متعلق ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2383]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2383، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4405، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13240، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2290»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2383 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2383
فوائد:
➊ عاملینِ زکاۃ اموالِ زکاۃ کو جمع کر کے حاکم کی خدمت میں پیش کریں گے، پھر حاکمِ وقت حسبِ منشا و ضرورت مصارفِ زکاۃ پر وہ اموال خرچ کرے گا، البتہ اگر امام عاملِ زکاۃ کو زکاۃ کا مال مصارف پر خرچ کرنے کی اجازت دے دے تب عامل کے لیے اموالِ زکاۃ خرچ کرنا جائز ہے۔ جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو رخصت عنایت کی تھی۔
➋ زکاۃ ادا کرنے والے کے لیے خیر و برکت کی دعا کرنا مسنون و مستحب فعل ہے۔
➊ عاملینِ زکاۃ اموالِ زکاۃ کو جمع کر کے حاکم کی خدمت میں پیش کریں گے، پھر حاکمِ وقت حسبِ منشا و ضرورت مصارفِ زکاۃ پر وہ اموال خرچ کرے گا، البتہ اگر امام عاملِ زکاۃ کو زکاۃ کا مال مصارف پر خرچ کرنے کی اجازت دے دے تب عامل کے لیے اموالِ زکاۃ خرچ کرنا جائز ہے۔ جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو رخصت عنایت کی تھی۔
➋ زکاۃ ادا کرنے والے کے لیے خیر و برکت کی دعا کرنا مسنون و مستحب فعل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2383]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2383 in Urdu
سالم بن أبي الجعد الأشجعي ← عبد الله بن العباس القرشي