صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1657. (102) باب فضل الصدقة على ذي الرحم الكاشح
عداوت و بغض رکھنے والے رشتہ دار کو صدقہ دینے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2386
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عُقْبَةَ ، قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَتْ قَدْ صَلَّتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَتَيْنِ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ"
سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے امام سفیان فرماتے ہیں کہ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف مُنہ کرکے نماز پڑھی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو بغض و عداوت رکھنے والے رشتہ دار کو دیا جائے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2386]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2386، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1480، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13347، والحميدي فى (مسنده) برقم: 330، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 971، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 204»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أم كلثوم بنت عقبة القرشية، أم كلثوم | صحابي | |
👤←👥حميد بن عبد الرحمن الزهري، أبو عثمان، أبو إبراهيم، أبو عبد الرحمن حميد بن عبد الرحمن الزهري ← أم كلثوم بنت عقبة القرشية | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← حميد بن عبد الرحمن الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله أحمد بن عبدة الضبي ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2386 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2386
فوائد:
➊ رشتہ دار مساکین و فقراء پر خرچ کرنا اور انہیں زکوٰۃ سے نوازنے کا دوہرا اجر ہے۔ ایک زکوٰۃ کا اور دوسرا رشتہ داری ملانے کا، لہٰذا عام لوگوں کی نسبت رشتہ داروں پر صدقہ و خیرات کرنا افضل و مستحب ہے۔
➋ ضرورت مند و محتاج رشتہ دار پر صدقہ کرنا افضل اور زیادہ ثواب کا باعث ہے۔ لہٰذا صدقات و زکوٰۃ ادا کرتے وقت رشتہ دار مساکین کا خیال رکھنا بہتر ہے۔
➊ رشتہ دار مساکین و فقراء پر خرچ کرنا اور انہیں زکوٰۃ سے نوازنے کا دوہرا اجر ہے۔ ایک زکوٰۃ کا اور دوسرا رشتہ داری ملانے کا، لہٰذا عام لوگوں کی نسبت رشتہ داروں پر صدقہ و خیرات کرنا افضل و مستحب ہے۔
➋ ضرورت مند و محتاج رشتہ دار پر صدقہ کرنا افضل اور زیادہ ثواب کا باعث ہے۔ لہٰذا صدقات و زکوٰۃ ادا کرتے وقت رشتہ دار مساکین کا خیال رکھنا بہتر ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2386]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2386 in Urdu
حميد بن عبد الرحمن الزهري ← أم كلثوم بنت عقبة القرشية