صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1694. (139) باب الزجر عن صدقة المرء بماله كله،
آدمی کا اپنا سارا مال صدقہ کر دینا منع ہے
حدیث نمبر: 2442
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبٍ ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تِيبَ عَلَيْهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمْسِكْ بَعْضَ مَالِكَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ" ، وَأَخْبَرَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، بِهَذَا مِثْلِهِ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی توبہ قبول ہوئی تو اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، میرا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کی طرف صدقہ ہے، میں اس سے دستبردار ہوتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں حُکم دیا: ”اپنا کچھ مال رکھ لو تو تمہارے لئے بہتر ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة التطوع/حدیث: 2442]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2757، 2947، 2948، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 716، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2442، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3370، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4215، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 730، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2202، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3102، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1393، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4002، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16011»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2442 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2442
فوائد:
➊ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچنے والی نعمت پر شکرانے کے طور پر صدقہ کرنا مستحب فعل ہے۔
➋ تمام مال صدقہ کرنا اور خود محتاج و فقیر ہو جانا مکروہ فعل ہے۔ بلکہ اپنی ضروریات کے لیے مال محفوظ رکھنا اور ضروریات و اخراجات سے زائد مال خرچ کرنا افضل ہے۔
➊ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچنے والی نعمت پر شکرانے کے طور پر صدقہ کرنا مستحب فعل ہے۔
➋ تمام مال صدقہ کرنا اور خود محتاج و فقیر ہو جانا مکروہ فعل ہے۔ بلکہ اپنی ضروریات کے لیے مال محفوظ رکھنا اور ضروریات و اخراجات سے زائد مال خرچ کرنا افضل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2442]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2442 in Urdu
يونس بن عبد الأعلي الصدفي ← عبد الله بن وهب القرشي