🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1743. (2) باب ذكر الدليل على أن اسم الإسلام باسم المعرفة الألف واللام قد يقع على بعض شعب الإسلام
اس بات کی دلیل کا بیان کہ بعض دفعہ اسلام پر الف لام تعریف کا ہوتا ہے (اور وہ کل کا معنی دیتا ہے) لیکن اس کے باوجود اس کا اطلاق اسلام کے بعض شعبوں پر ہوجاتا ہے


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2505
حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الإِسْلامَ بُنِيَ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَإِقَامِ الصَّلاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، اس بات کی گواہی دینا کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود پر حق نہیں (اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں)، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2505]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 8، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 16، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 308، 309، 1880، 1881، 2505، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 158، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5016، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1705، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4890، والحميدي فى (مسنده) برقم: 720»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن زيد القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن زيد القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥عاصم بن محمد العمري
Newعاصم بن محمد العمري ← محمد بن زيد القرشي
ثقة
👤←👥بشر بن المفضل الرقاشي، أبو إسماعيل
Newبشر بن المفضل الرقاشي ← عاصم بن محمد العمري
ثقة ثبت
👤←👥أحمد بن المقدام العجلي، أبو الأشعث
Newأحمد بن المقدام العجلي ← بشر بن المفضل الرقاشي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2505 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2505
فوائد:
➊ حج کی تعریف: حج سے مقصود طواف، سعی، وقوفِ عرفہ اور تمام مناسکِ حج کو بطور عبادت ادا کرنے کی خاطر اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور اس کی رضا کی خاطر مکہ کا قصد کرنا ہے۔
➋ یہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے اور اسلام کے ضروری فرائض میں سے فرض ہے، اور اگر کوئی شخص حج کے وجوب کا انکار کر دے تو وہ کافر اور مرتد ہو جاتا ہے۔
➌ حج فرض کب ہوا؟ جمہور علما کے نزدیک راجح موقف یہ ہے کہ حج چھ ہجری کو فرض ہوا تھا، اور ابن قیم رحمہ اللہ نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ حج نو یا دس ہجری کو فرض ہوا تھا۔ [فقه السنہ: 550/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2505]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2505 in Urdu