صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1785. (44) باب استحباب الدلجة بالليل؛ إذ الله- عز وجل- يطوي الأرض بالليل، فيكون السير بالليل أقطع للسفر.
رات کے وقت سفر کرنا مستحب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ رات کے وقت زمین لپیٹ دیتے ہیں، اس لئے رات کو سفر کرنے سے زیادہ مسافت طے ہوتی ہے
حدیث نمبر: 2555
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَسْلَمَ ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ، فَإِنَّ الأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ" ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ الْخَزَّازُ ، وَأَبُو بِشْرٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا رُوَيْمُ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، بِمِثْلِهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کے وقت سفر کیا کرو کیونکہ رات کے وقت زمین لپیٹ دی جاتی ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2555]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2555، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1636، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2571، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10451»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2555 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2555
فوائد:
➊ اس حدیث میں سفر کا ایک ادب بیان کیا گیا ہے کہ سفر رات کے شروع حصے میں یا تمام رات کیا جائے۔
➋ رات کو زمین سمیٹ دی جاتی ہے اور سفر زیادہ طے ہوتا ہے۔
➊ اس حدیث میں سفر کا ایک ادب بیان کیا گیا ہے کہ سفر رات کے شروع حصے میں یا تمام رات کیا جائے۔
➋ رات کو زمین سمیٹ دی جاتی ہے اور سفر زیادہ طے ہوتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2555]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2555 in Urdu
رويم بن يزيد الشيباني ← الليث بن سعد الفهمي