صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1807. (66) باب الرخصة فى التطيب عند الإحرام بطيب يبقى أثره على المتطيب فى الإحرام
احرام کے وقت ایسی خوشبو لگانے کی رخصت ہے جس کا اثر محرم کے جسم پر احرام باندھنے کے بعد بھی باقی رہے
حدیث نمبر: 2587
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، وَحَمَّادٌ ، وَمَنْصُورٌ ، وَسُلَيْمَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" ، قَالَ سُلَيْمَانُ: فِي شَعْرٍ، وَقَالَ مَنْصُورٌ: فِي أُصُولِ الشَّعَرِ، وَقَالَ الْحَكَمُ، وَحَمَّادٌ: فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ
حسن بن محمد زعفرانی روح شعبه قلم، حماد، منصور اور سلیمان ابراہیم اسود کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، گویا کہ میں اس وقت بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں آپ اُس وقت احرام باندھے ہوئے تھے۔
سلیمان نامی راوی نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں، جبکہ منصور نامی راوی نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی جڑوں میں (خوشبو) دیکھ رہی ہوں۔ جبکہ حکم اور حماد نامی راوی نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی مانگ میں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2587]
سلیمان نامی راوی نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں، جبکہ منصور نامی راوی نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی جڑوں میں (خوشبو) دیکھ رہی ہوں۔ جبکہ حکم اور حماد نامی راوی نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی مانگ میں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2587]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 271، 1537، 5918، 5923، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1190، وابن الجارود فى "المنتقى"، 456، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2585، 2586، 2587، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1376، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2692، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1746، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2927، 2928، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9049، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24741»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2587 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2587
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ احرام کے ارادہ کے وقت احرام باندھنے سے قبل خوشبو لگانا مستحب فعل ہے۔
احرام باندھتے وقت احرام سے قبل استعمال کی گئی خوشبو کے دوام میں کچھ مضائقہ نہیں، لیکن احرام باندھتے وقت خوشبو کا استعمال حرام ہے۔
صحابہ و تابعین کی کثیر تعداد، شافعیہ اور جمہور محدثین و فقہاء اسی مذہب کے قائل ہیں اور یہی موقف راجح ہے۔
➋ جمرہ عقبہ کی رمی اور حلق کے بعد اور طوافِ افاضہ سے قبل خوشبو لگانا مستحب فعل ہے۔
شافعی اور مالک رحمہما اللہ کے سوا تمام علماء اسی مذہب کے قائل ہیں۔ [ملخص از شرح النووي: 8/ 98]
➌ کستوری پاک اور بہترین خوشبو ہے اور احرام سے قبل استعمال شدہ کستوری کے اثرات بدن پر ہوں بھی تو کچھ مضائقہ نہیں۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ احرام کے ارادہ کے وقت احرام باندھنے سے قبل خوشبو لگانا مستحب فعل ہے۔
احرام باندھتے وقت احرام سے قبل استعمال کی گئی خوشبو کے دوام میں کچھ مضائقہ نہیں، لیکن احرام باندھتے وقت خوشبو کا استعمال حرام ہے۔
صحابہ و تابعین کی کثیر تعداد، شافعیہ اور جمہور محدثین و فقہاء اسی مذہب کے قائل ہیں اور یہی موقف راجح ہے۔
➋ جمرہ عقبہ کی رمی اور حلق کے بعد اور طوافِ افاضہ سے قبل خوشبو لگانا مستحب فعل ہے۔
شافعی اور مالک رحمہما اللہ کے سوا تمام علماء اسی مذہب کے قائل ہیں۔ [ملخص از شرح النووي: 8/ 98]
➌ کستوری پاک اور بہترین خوشبو ہے اور احرام سے قبل استعمال شدہ کستوری کے اثرات بدن پر ہوں بھی تو کچھ مضائقہ نہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2587]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2587 in Urdu
الأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق