صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1857. (116) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْحِجَامَةِ لِلْمُحْرِمِ مِنْ غَيْرِ قَطْعِ شَعَرٍ وَلَا حَلْقِهِ
محرم بغیر بال کاٹے یا منڈوائے سینگی لگوا سکتا ہے
حدیث نمبر: 2651
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرًا يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " احْتَجَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" ، ثُمَّ سَمِعْتُ عَمْرًا بَعْدَ ذَلِكَ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي طَاوُسٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ"، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ رَوَى عَنْهُمَا جَمِيعًا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سینگی لگوائی۔ جناب سفیان کہتے ہیں کہ پھر میں نے جناب عمرو بن دینار کو فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے طاوس نے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سینگی لگوائی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں امام عمرو بن دینار نے یہ روایت امام عطاء اور طاوس دونوں سے بیان کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2651]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1835، 1938، 1939، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1202، وابن الجارود فى "المنتقى"، 427، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2651، 2655، 2657، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3531، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1571، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2845، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1835، والترمذي فى (جامعه) برقم: 775، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1682، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8361، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2512، 2513، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1874»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2651 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2651
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ محرم کا سینگی لگوانا جائز ہے۔ سر اور جسم کے دیگر اعضاء پر سینگی لگانے کے جواز پر علما کا اجماع ہے۔ یہ عمل عذر کی صورت میں جائز ہے۔ پھر اگر دورانِ سینگی جسم کے بال کٹیں تو اس پر فدیہ ہے اور اگر بال زائل نہ ہوں تو کوئی فدیہ نہیں، اس مسئلے کی دلیل یہ آیتِ قرآنی ہے: ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ﴾ ”سو تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو تو فدیہ ہے۔“ [سورة البقرة: 196]
➋ نیز اس حدیث میں احتمال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وسطِ سر میں پچھنے لگوانا عذر کی وجہ سے تھا کیونکہ سر میں پچھنے لگانے سے لامحالہ بال کاٹنا پڑتے ہیں۔
➌ البتہ اگر محرم بلا عذر سینگی لگوائے اور اس سے بال زائل ہوں تو یہ عمل حرام ہے کیونکہ بلا عذر بال زائل کرنا حرام ہے اور اگر سینگی ایسے عضو پر لگائیں جہاں بال ضائع نہ ہوں تو شافعیہ اور جمہور علما کے نزدیک یہ عمل جائز ہے۔ ◈ [شرح النووي: 8/123]
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ محرم کا سینگی لگوانا جائز ہے۔ سر اور جسم کے دیگر اعضاء پر سینگی لگانے کے جواز پر علما کا اجماع ہے۔ یہ عمل عذر کی صورت میں جائز ہے۔ پھر اگر دورانِ سینگی جسم کے بال کٹیں تو اس پر فدیہ ہے اور اگر بال زائل نہ ہوں تو کوئی فدیہ نہیں، اس مسئلے کی دلیل یہ آیتِ قرآنی ہے: ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ﴾ ”سو تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو تو فدیہ ہے۔“ [سورة البقرة: 196]
➋ نیز اس حدیث میں احتمال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وسطِ سر میں پچھنے لگوانا عذر کی وجہ سے تھا کیونکہ سر میں پچھنے لگانے سے لامحالہ بال کاٹنا پڑتے ہیں۔
➌ البتہ اگر محرم بلا عذر سینگی لگوائے اور اس سے بال زائل ہوں تو یہ عمل حرام ہے کیونکہ بلا عذر بال زائل کرنا حرام ہے اور اگر سینگی ایسے عضو پر لگائیں جہاں بال ضائع نہ ہوں تو شافعیہ اور جمہور علما کے نزدیک یہ عمل جائز ہے۔ ◈ [شرح النووي: 8/123]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2651]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2651 in Urdu
طاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي