صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1859. (118) بَابُ إِبَاحَةِ مُدَاوَاةِ الْمُحْرِمِ عَيْنَهُ- إِذَا أَصَابَهُ رَمَدٌ- بِالصَّبِرِ
جب محرم کی آںکھیں دکھتی ہوں تو وہ ایلوے کی پٹی کرسکتا ہے
حدیث نمبر: 2654
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، حَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا اشْتَكَى عَيْنَيْهِ، وَهُوَ مُحْرِمٌ ضَمَّدَهُمَا بِالصَّبِرِ"
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی شخص کی حالت احرام میں آنکھیں دُکھتی ہوں تو وہ ایلوے کی لیپ کرلے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2654]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1204، وابن الجارود فى "المنتقى"، 488، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2654، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3954، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2710، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1838، والترمذي فى (جامعه) برقم: 952، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1971، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9218، وأحمد فى (مسنده) برقم: 429»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2654 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2654
فوائد:
➊ علماء کا اتفاق ہے کہ حالت احرام میں آنکھوں پر ایلوا اور بے خوشبو بوٹی کا لیپ کرنا جائز ہے اور اس صورت میں فدیہ لازم نہیں آتا۔
لیکن اگر وہ خوشبو کا محتاج ہو تو یہ عمل بھی جائز ہے لیکن اس صورت میں فدیہ لازم ہوگا۔
➋ علماء کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ محرم بوقت ضرورت ایسا سرمہ لگا سکتا ہے جو خوشبودار نہ ہو اور اس میں کوئی فدیہ نہیں۔
◈ شافعی و دیگر علماء کے نزدیک زینت کے لیے سرمہ لگانا مکروہ ہے۔
◈ احمد اور اسحق نے اس سے منع کیا ہے۔ [شرح النووي: 124/8]
➊ علماء کا اتفاق ہے کہ حالت احرام میں آنکھوں پر ایلوا اور بے خوشبو بوٹی کا لیپ کرنا جائز ہے اور اس صورت میں فدیہ لازم نہیں آتا۔
لیکن اگر وہ خوشبو کا محتاج ہو تو یہ عمل بھی جائز ہے لیکن اس صورت میں فدیہ لازم ہوگا۔
➋ علماء کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ محرم بوقت ضرورت ایسا سرمہ لگا سکتا ہے جو خوشبودار نہ ہو اور اس میں کوئی فدیہ نہیں۔
◈ شافعی و دیگر علماء کے نزدیک زینت کے لیے سرمہ لگانا مکروہ ہے۔
◈ احمد اور اسحق نے اس سے منع کیا ہے۔ [شرح النووي: 124/8]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2654]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2654 in Urdu
أبان بن عثمان الأموي ← عثمان بن عفان