صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1914. (173) بَابُ التَّكْبِيرِ كُلَّمَا انْتَهَى إِلَى الْحَجَرِ
ہر چکّر میں حجراسود پر پہنچ کر اللهُ أَكْبَرُ کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 2722
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ وَهُوَ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَهُوَ عَلَى بَعِيرٍ كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ فِي يَدِهِ وَكَبَّرَ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہوکر بیت اللہ کا طواف کیا۔ جب آپ حجر اسود کے پاس پہنچتے تو آپ اپنے ہاتھ میں پڑی ہوئی ایک چیز (لاٹھی) سے اشارہ کرتے اور «اللهُ أَكْبَرُ» کہتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2722]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1607، 1612، 1613، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1272، وابن الجارود فى "المنتقى"، 510، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2722، 2724، 2780، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3825، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 712، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1877، 1881، والترمذي فى (جامعه) برقم: 865، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1887، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2948، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9381، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1866»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2722 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2722
فوائد:
دورانِ طواف ہر چکر پر حجر اسود کے قریب پہنچنے کے وقت اللہ اکبر کہنا مستحب ہے اور دورانِ طواف حجاج و معتمرین کو تکبیر کا اہتمام کرنا چاہیے۔
دورانِ طواف ہر چکر پر حجر اسود کے قریب پہنچنے کے وقت اللہ اکبر کہنا مستحب ہے اور دورانِ طواف حجاج و معتمرین کو تکبیر کا اہتمام کرنا چاہیے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2722]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2722 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي