صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1926. (185) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِذِكْرِهِ الرُّكْنَ فِي هَذَا الْخَبَرِ نَفْسَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ لَا غَيْرَ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ کہ اس حدیث میں مذکور رکن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد صرف حجر اسود ہے، دوسرا کوئی رکن مراد نہیں ہے
حدیث نمبر: 2736
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الأَشْيَبُ ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ أَبُو يَزِيدَ الأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِهَذَا الْحَجَرِ لِسَانًا، وَشَفَتَيْنِ يَشْهَدُ لِمَنِ اسْتَلَمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَقٍّ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اس حجر اسود کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہوںگے، جس شخص نے اسے حق کے ساتھ چھوا ہوگا، یہ اس کے حق میں قیامت کے دن گواہی دیگا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2736]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2735، 2736، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3711، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1686، والترمذي فى (جامعه) برقم: 961، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1881، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2944، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9324، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2250»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2736 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2736
فوائد:
➊ ان احادیث میں حجر اسود کو چھونے کی فضیلت و عظمت کا بیان ہے کہ روز قیامت حجر اسود بوسہ دینے والے، چھونے اور ہاتھ کے اشارے سے استلام کرنے والے حجاج و معتمرین کے حق میں یہ گواہی دے گا۔
➋ حجر اسود کو زبان اور آنکھیں حقیقی عطا ہوں گی یا مجازی، اسے حقیقی معنی پر محمول کرنا اولیٰ ہے کیونکہ جب اس کے لیے گواہی دینا ممکن ہوگا، تو آنکھوں اور زبان کی دستیابی کون سا بعید ہے۔
➊ ان احادیث میں حجر اسود کو چھونے کی فضیلت و عظمت کا بیان ہے کہ روز قیامت حجر اسود بوسہ دینے والے، چھونے اور ہاتھ کے اشارے سے استلام کرنے والے حجاج و معتمرین کے حق میں یہ گواہی دے گا۔
➋ حجر اسود کو زبان اور آنکھیں حقیقی عطا ہوں گی یا مجازی، اسے حقیقی معنی پر محمول کرنا اولیٰ ہے کیونکہ جب اس کے لیے گواہی دینا ممکن ہوگا، تو آنکھوں اور زبان کی دستیابی کون سا بعید ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2736]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2736 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي