🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1931. ‏(‏190‏)‏ باب ذكر الدليل على صحة
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کی جو تاویل میں نے کی ہے،
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2741
مَا تَأَوَّلْتُ قَوْلَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَالْبَيَانُ أَنَّ بَعْضَ الْحِجْرِ مِنَ الْبَيْتِ لَا جَمِيعِهِ
اس کے صحیح ہونے کی دلیل کا بیان اور اس بات کا بیان کہ حطیم کا پورا حصّہ بیت اللہ کا حصّہ نہیں بلکہ کچھ حطیم بیت اللہ کا حصّہ ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2741]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2741
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . حَ وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَالْوَلِيدَ بْنَ عَطَاءٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ: وَفَدَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرَوَانَ فِي خِلافَتِهِ، فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: مَا أَظُنُّ أَبَا خُبَيْبٍ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ مَا كَانَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا، قَالَ الْحَارِثُ: بَلَى، أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهَا، قَالَ: سَمِعْتَهَا تَقُولُ مَاذَا؟ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا مِنْ بُنْيَانِ الْبَيْتِ، وَإِنِّي لَوْلا حَدَاثَةُ عَهْدِهِمْ بِالشِّرْكِ أَعَدْتُ مَا تَرَكُوا مِنْهُ، فَإِنْ بَدَا لِقَوْمِكِ مِنْ بَعْدِي أَنْ يَبْنُوهُ فَهَلُمِّي، فَلأُرِيكِ مَا تَرَكُوا مِنْهُ" ، فَأَرَاهَا قَرِيبًا مِنْ سَبْعَةِ أَذْرُعٍ هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَزَادَ عَلَيْهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَجَعَلْتُ لَهُ بَابَيْنِ مَوْضُوعَيْنِ فِي الأَرْضِ شَرْقِيًّا وَغَرْبِيًّا، وَهَلْ تَدْرِينَ لِمَ كَانَ قَوْمُكِ رَفَعُوا بَابَهَا"؟ قُلْتُ: لا، قَالَ:" تَعَزُّزًا أَلا يَدْخُلَهَا إِلا مَنْ أَرَادُوا، فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا كَرِهُوا أَنْ يَدْخُلَهَا دَعُوهُ يَرْتَقِي حَتَّى إِذَا كَادَ أَنْ يَدْخُلَ دَفَعُوهُ فَسَقَطَ"، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ لِلْحَارِثِ: أَأَنْتَ سَمِعْتَهَا تَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَنَكَتَ سَاعَةً بِعَصَاهُ، ثُمَّ قَالَ: وَدِدْتُ أَنِّي تَرَكْتُهُ، وَمَا تَحَمَّلَ، جَمِيعًا لَفْظًا وَاحِدًا غَيْرَ أَنَّ مُحَمَّدًا، قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ جَنَابٍ، وَقَالَ: قَالَ الْحَارِثِ: أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهَا، قَالَ: فَكَانَ الْحَارِثُ مُصَدَّقًا لا يُكَذَّبُ، قَالَ: سَمِعْتَهَا تَقُولُ مَاذَا؟ قَالَ: سَمِعْتُهَا تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" لَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ"، وَقَالَ:" يَدَعُونَهُ يَرْتَقِي"
جناب عبد اللہ بن عبید بیان کرتے ہیں کہ عبد الملک بن مروان کے دور حکومت میں حارث بن عبد اللہ ان کے پاس ایک قاصد کی حیثیت سے گئے تو عبدالملک نے کہا کہ میرے خیال میں سیدنا ابو خبیب یعنی ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے وہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سُنی نہیں ہے جس کے سُننے کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ جناب حارث کہتے ہیں کہ کیوں نہیں، وہ حدیث تو میں نے بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہے۔ عبد الملک نے کہا کہ تم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کیا فرماتے ہوئے سنا ہے؟ جناب حارث کہتے ہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک تیری قوم نے بیت اللہ کی بنیادوں کو چھوٹا کردیا تھا اور اگر وہ نئے نئے شرک سے نکل کر مسلمان نہ ہوئے ہوتے تو میں اس حصّے کو بیت اللہ کی بنیادوں میں دوبارہ شامل کردیتا جو اُنہوں نے چھوڑ دیا تھا لہٰذا اگر میرے بعد تیری قوم بیت الله کو (پُرانی بنیادوں پر) بنانا چاہے، تو آؤ میں تمہیں وہ حصّہ دکھا دوں جو اُنہوں نے چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تقریبا ساٹھ ہاتھ کے برابر کی جگہ دکھائی (جو بیت اللہ میں شامل نہیں کی گئی تھی اور وہ حطیم یا مجر کہلاتی ہے) یہ روایت جناب عبد اللہ بن عبید کی ہے۔ جناب ولید بن عطاء نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو میں بیت اللہ کے زمین سے ملے ہوئے دو دروازے بناتا، ایک مشرقی جانب اور دوسرا مغربی جانب۔ کیا تمہیں معلوم ہے تیری قوم نے بیت اللہ کا دروازہ اونچا کیوں رکھا تھا؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تکبر و غرور کے اظہار کے لئے، تاکہ بیت اللہ شریف میں صرف و شخص داخل ہوسکے جس کو یہ اجازت دیں۔ اور جب ان کا ناپسندیدہ شخص اس میں داخل ہونے کے لئے اوپر چڑھتا تو وہ اسے چڑھنے دیتے، حتّیٰ کہ جب وہ بیت اللہ میں داخل ہونے کے قریب ہوتا تو اسے دھکا دیکر گرا دیتے۔ عبد الملک نے حارث سے کہا کہ کیا تم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے خود سنا ہے؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ جی ہاں، سنا ہے۔ اس پر عبد الملک کچھ دیر سر جھکائے زمین کریدتا رہا پھر کہنے لگا کہ کاش میں بیت اللہ کو (سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی تعمیر کی ہوئی بنیادوں پر) باقی رہنے دیتا اور (بیت اللہ کو توڑ کر نئے سرے سے بنانے کی ذمہ داری انہی پر رہنے دیتا، جو اُنہوں نے اپنے ذمہ لی تھی۔ سب راویوں کی روایات کے الفاظ متحد ہیں، صرف محمد کی روایت میں یہ الفاظ مختلف آئے ہیں۔ ولید بن عطاء بن جناب بیان کرتے ہیں کہ حارث نے کہا کہ میں نے یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سُنی ہے۔ جناب حارث اس حدیث کی تصدیق کرنے والے تھے۔ جھٹلانے اور انکار کرنے والے نہیں تھے۔ عبد الملک نے پوچھا کہ تم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کیا فرماتے ہوئے سنا ہے؟ جناب حارث نے جواب دیا کہ میں نے انہیں سنا وہ فرما رہی تھیں کہ رسول اللہ نے فرمایا، اور فرمایا کہ تو میں اس کے دو دروازے بناتا۔ اور فرمایا: وہ اس شخص کو اوپر چڑھنے دیتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2741]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1333، 1333، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2741، 3023، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 9150»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥الحارث بن عبد الله المخزومي
Newالحارث بن عبد الله المخزومي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
صدوق حسن الحديث
👤←👥الوليد بن عطاء الحجازي
Newالوليد بن عطاء الحجازي ← الحارث بن عبد الله المخزومي
مقبول
👤←👥عبد الله بن عبيد الليثي، أبو هاشم
Newعبد الله بن عبيد الليثي ← الوليد بن عطاء الحجازي
ثقة
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عبد الله بن عبيد الليثي
ثقة
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← ابن جريج المكي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ جليل
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← محمد بن يحيى الذهلي
ثقة
👤←👥محمد بن بكر البرساني، أبو عثمان، أبو عبد الله
Newمحمد بن بكر البرساني ← ابن جريج المكي
ثقة
👤←👥الفضل بن يعقوب الجزري، أبو العباس
Newالفضل بن يعقوب الجزري ← محمد بن بكر البرساني
صدوق حسن الحديث
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2741 in Urdu