صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1968. (227) بَابُ ذِكْرِ عَدَدِ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يُصَلِّي الْإِمَامُ وَالنَّاسُ بِمِنًى قَبْلَ الْغُدُوِّ إِلَى عَرَفَةَ.
ان نمازوں کی تعداد کا بیان جو امام اور لوگ عرفات روانہ ہونے سے پہلے منیٰ میں ادا کریں گے
حدیث نمبر: 2799
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ الْبَجَلِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى خَمْسَ صَلَوَاتٍ بِمِنًى"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں پانچ نمازیں ادا کی تھیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2799]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2799، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1700، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1913، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2744، 2810، والطبراني فى(الكبير) برقم: 12126، 12340»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2799 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2799
فوائد:
➊ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم الترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کو مقامِ ابطح (منیٰ) میں پڑاؤ ڈالتے تھے اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا بھی یہی معمول رہا۔
➋ لیکن سیدہ عائشہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس جگہ نزول کے متعلق فرماتے تھے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتفاقی منزل تھی، بالقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں نزول نہ فرمایا تھا۔
➌ جمہور علماء رحمہم اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی اقتدا کی وجہ سے اس جگہ نزول کو مستحب قرار دیتے ہیں۔
➍ علماء کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ جو شخص یہاں قیام نہ کرے اس پر کوئی فدیہ لازم نہیں۔
➎ منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز پڑھنا اور یہاں کچھ رات یا تمام رات گزارنا مستحب فعل ہے۔
◈ [شرح صحيح مسلم للنووي: 59/9]
➊ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم الترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کو مقامِ ابطح (منیٰ) میں پڑاؤ ڈالتے تھے اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا بھی یہی معمول رہا۔
➋ لیکن سیدہ عائشہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس جگہ نزول کے متعلق فرماتے تھے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتفاقی منزل تھی، بالقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں نزول نہ فرمایا تھا۔
➌ جمہور علماء رحمہم اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی اقتدا کی وجہ سے اس جگہ نزول کو مستحب قرار دیتے ہیں۔
➍ علماء کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ جو شخص یہاں قیام نہ کرے اس پر کوئی فدیہ لازم نہیں۔
➎ منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز پڑھنا اور یہاں کچھ رات یا تمام رات گزارنا مستحب فعل ہے۔
◈ [شرح صحيح مسلم للنووي: 59/9]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2799]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2799 in Urdu
مقسم بن بجرة ← عبد الله بن العباس القرشي