صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2006. (265) بَابُ ذِكْرِ الدُّعَاءِ وَالذِّكْرِ وَالتَّهْلِيلِ فِي السَّيْرِ مِنْ عَرَفَةَ إِلَى مُزْدَلِفَةَ.
عرفات سے مزدلفہ جاتے ہوئے دعا مانگنے، ذکر الہٰی اور «لَا اِلٰه اِلَّا اللّٰهُ» پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2846
قَرَأْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيِّ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُجَمِّعٍ الْكِنْدِيَّ ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ فِي حَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ أَهَلَّ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ:" وَوَقَفَ يَعْنِي بِعَرَفَةَ، حَتَّى إِذَا وَجَبَتِ الشَّمْسُ أَقْبَلَ يَذْكُرُ اللَّهَ وَيُعَظِّمُهُ، وَيُهَلِّلُهُ وَيُمَجِّدُهُ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حج یا عمرے کے سفر میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس آپ کو لیکر سیدھی ہوتی تو آپ تلبیہ پکارتے۔ پھر بقیہ حدیث بیان کی۔ اور فرمایا کہ آپ میدان عرفات میں ٹھہرے رہے حتّیٰ کہ جب سورج غروب ہوگیا تو آپ نے اللہ تعالیٰ کا ذکر شروع کردیا۔ آپ اللہ تعالیٰ کی عظمت، اس کی الوہیت کا اقرار «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» اور اس کی بڑائی اور بزرگی بیان کرتے رہے حتّیٰ کہ آپ مزدلفہ پہنچ گئے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2846]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1514، 1541، 1552، 2865، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1184، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1194، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2611، 2613، 2763، 2846، 2856، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3762، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2756، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1771، والترمذي فى (جامعه) برقم: 818، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1970، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2916، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9073، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4659، والحميدي فى (مسنده) برقم: 674»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد موسى بن عقبة القرشي ← نافع مولى ابن عمر | ثقة فقيه إمام في المغازي | |
👤←👥عمرو بن مجمع السكوني، أبو المنذر عمرو بن مجمع السكوني ← موسى بن عقبة القرشي | ضعيف الحديث | |
👤←👥أحمد بن أبي سريج النهشلي، أبو جعفر أحمد بن أبي سريج النهشلي ← عمرو بن مجمع السكوني | ثقة |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2846 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2846
فوائد:
تمام اوقات میں ذکر الٰہی کا اہتمام مستحب ہے۔
لیکن عرفات سے مزدلفہ جاتے وقت ذکر و اذکار کے اہتمام کی خاص تاکید ہے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
﴿فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ﴾ ”اور جب تم عرفات سے واپس آؤ تو مشعر حرام کے پاس اللہ کا ذکر کرو۔“ [سورة البقرة: 198]
لہٰذا اس وقت اللہ کا ذکر کرنا، اس کی عبادت میں منہمک ہونا اور تلبیہ کا اہتمام کرنا افضل عمل ہے۔ [المغني: 446/3]
تمام اوقات میں ذکر الٰہی کا اہتمام مستحب ہے۔
لیکن عرفات سے مزدلفہ جاتے وقت ذکر و اذکار کے اہتمام کی خاص تاکید ہے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
﴿فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ﴾ ”اور جب تم عرفات سے واپس آؤ تو مشعر حرام کے پاس اللہ کا ذکر کرو۔“ [سورة البقرة: 198]
لہٰذا اس وقت اللہ کا ذکر کرنا، اس کی عبادت میں منہمک ہونا اور تلبیہ کا اہتمام کرنا افضل عمل ہے۔ [المغني: 446/3]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2846]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2846 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي