صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2138. (397) بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ أَنَّ بَعْضَ الْحِجْرِ مِنَ الْبَيْتِ، لَا جَمِيعَهُ
اس بات کا بیان کہ حطیم کا کچھ حصّہ بیت اللہ شریف کا جزو ہے، سارا حطیم بیت اللہ شریف کا حصّہ نہیں ہے
حدیث نمبر: 3023
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بَكْرٍ يَعْنِي مُحَمَّدًا ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَالْوَلِيدَ بْنَ عَطَاءٍ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ: وَفَدَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى عَبْدِ الْمَلَكِ بْنِ مَرْوَانَ فِي خِلافَتِهِ، فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: مَا أَظُنُّ أَبَا خُبَيْبٍ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ مَا كَانَ يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا، قَالَ الْحَارِثُ: بَلَى، أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهَا، قَالَ سَمِعْتَهَا تَقُولُ: مَاذَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا مِنْ بُنْيَانِ الْبَيْتِ، وَإِنِّي لَوْلا حَدَاثَةُ عَهْدِهِمْ بِالشِّرْكِ أَعَدْتُ مَا تَرَكُوا مِنْهُ، فَإِنْ بَدَا لِقَوْمُكِ مِنْ بَعْدِي أَنْ يَبْنُوهُ فَهَلُمِّي فَلأُرِيكِ مَا تَرَكُوا مِنْهُ، فَأَرَاهَا قَرِيبًا مِنْ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ" ، هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ
جناب عبداللہ بن عبيد بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ عبد الملک بن مروان کے عہد حکومت میں حارث بن عبد اللہ کے پاس ایک قاصد کی حیثیت سے حاضر ہوئے تو عبد الملک نے کہا کہ میرا خیال نہیں کہ حضرت ابوخبیب عبداللہ بن زبیر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ حدیث سنی ہوگی جس کا وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے سنی ہے، حارث کہتے ہیں کہ کیوں نہیں وہ حدیث تو میں نے بھی اماں جی سے سنی ہے۔ اس نے پوچھا، تم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کیا فرماتے ہوئے سنا ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ اماں جی فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”بیشک تیری قوم نے بیت اللہ کی بنیادوں کو چھوٹا کر دیا تھا (کیونکہ ان کے پاس خرچ کرنے کے لئے حلال مال ختم ہوگیا تھا) اور اگر یہ لوگ نئے نئے شرک سے نکل کر مسلمان نہ ہوئے ہوتے تو بیشک میں ان کا چھوڑا ہوا حصّہ دوبارہ تعمیر کرا دیتا لہٰذا اگر میرے بعد تیری قوم اس حصّے کو بیت اللہ شریف کی بنیادوں میں شامل کرنے کا ارادہ کرے تو آؤ میں تمھیں وہ جگہ دکھا دوں جو انھوں نے بیت اللہ سے نکال دی تھی۔ تو آپ نے اماں جی کو تقریبا سات ہاتھ جگہ دکھائی۔ یہ روایت عبد الله بن عبید کی ہے۔ انھوں نے مکمّل قصّہ بیان کیا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3023]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1333، 1333، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2741، 3023، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 9150»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 3023 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 3023
فوائد:
➊ جب مصلحت و فساد باہم متعارض ہوں اور ان کو حیطہ عمل میں لانا مشکل ہو تو ان میں سے اہم فعل پر عمل کیا جائے گا۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ کعبہ کو گرانے میں مصلحت تھی، لیکن اس کو گرانا بڑے فساد کا باعث تھا، کیونکہ کچھ نو مسلم افراد کے فتنہ میں مبتلا ہونے کا شدید خطرہ تھا، کیونکہ وہ کعبہ کی فضیلت کا اعتقاد رکھتے تھے اور اس کی تبدیلی کو عظیم تبدیلی خیال کرتے تھے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی تعمیر نو کا یہ منصوبہ ترک کر دیا۔
➋ علماء بیان کرتے ہیں کہ کعبہ کی تعمیر پانچ مرتبہ ہوئی ہے: 1 پہلی مرتبہ کعبہ کی تعمیر فرشتوں نے کی۔ 2 پھر ابراہیم علیہ السلام نے۔ 3 بعد ازاں قریش نے دور جاہلیت میں، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس تعمیر میں شریک تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پینتیس یا پچیس سال تھی۔ 4 پھر اس کی تعمیر عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کی۔ 5 اس کے بعد تعمیر کعبہ کا اہتمام حجاج بن یوسف نے کیا اور کعبہ اب اسی تعمیر پر قائم ہے اور ایک قول ہے کہ اس کے بعد بھی دو یا تین مرتبہ کعبہ کی تعمیر ہوئی ہے۔ [شرح النووي: 9/90]
➌ مقام حجر کا کچھ حصہ پانچ یا سات ہاتھ کا رقبہ بیت اللہ میں شامل ہے۔ قریش نے سرمایہ کی کمی کی وجہ سے اسے بیت اللہ میں شامل نہ کیا۔
➍ مقام حجر کے اس حصہ میں نماز ادا کرنا کعبہ میں ہی نماز ادا کرنا ہے۔
➊ جب مصلحت و فساد باہم متعارض ہوں اور ان کو حیطہ عمل میں لانا مشکل ہو تو ان میں سے اہم فعل پر عمل کیا جائے گا۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ کعبہ کو گرانے میں مصلحت تھی، لیکن اس کو گرانا بڑے فساد کا باعث تھا، کیونکہ کچھ نو مسلم افراد کے فتنہ میں مبتلا ہونے کا شدید خطرہ تھا، کیونکہ وہ کعبہ کی فضیلت کا اعتقاد رکھتے تھے اور اس کی تبدیلی کو عظیم تبدیلی خیال کرتے تھے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی تعمیر نو کا یہ منصوبہ ترک کر دیا۔
➋ علماء بیان کرتے ہیں کہ کعبہ کی تعمیر پانچ مرتبہ ہوئی ہے: 1 پہلی مرتبہ کعبہ کی تعمیر فرشتوں نے کی۔ 2 پھر ابراہیم علیہ السلام نے۔ 3 بعد ازاں قریش نے دور جاہلیت میں، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس تعمیر میں شریک تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پینتیس یا پچیس سال تھی۔ 4 پھر اس کی تعمیر عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کی۔ 5 اس کے بعد تعمیر کعبہ کا اہتمام حجاج بن یوسف نے کیا اور کعبہ اب اسی تعمیر پر قائم ہے اور ایک قول ہے کہ اس کے بعد بھی دو یا تین مرتبہ کعبہ کی تعمیر ہوئی ہے۔ [شرح النووي: 9/90]
➌ مقام حجر کا کچھ حصہ پانچ یا سات ہاتھ کا رقبہ بیت اللہ میں شامل ہے۔ قریش نے سرمایہ کی کمی کی وجہ سے اسے بیت اللہ میں شامل نہ کیا۔
➍ مقام حجر کے اس حصہ میں نماز ادا کرنا کعبہ میں ہی نماز ادا کرنا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 3023]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 3023 in Urdu
الحارث بن عبد الله المخزومي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق