صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
251. (18) باب استحباب تعجيل صلاة العصر
عصر کی نماز جلدی پڑھنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 332
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَفِظْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمَخْزُومِيِّ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي، لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ بَعْدُ" ، قَالَ أَحْمَدُ: فِي حُجْرَتِهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الظُّهُورِ عِنْدَ الْعَرَبِ يَكُونُ عَلَى مَعْنَيَيْنِ: أَحَدُهُمَا أَنْ يَظْهَرَ الشَّيْءُ حَتَّى يُرَى وَيُتَبَيَّنُ فَلا خَفَاءَ، وَالثَّانِي أَنْ يَغْلِبَ الشَّيْءُ عَلَى الشَّيْءِ، كَمَا يَقُولُ الْعَرَبُ: ظَهَرَ فُلانٌ عَلَى فُلانٍ، وَظَهَرَ جَيْشُ فُلانٍ عَلَى جَيْشِ فُلانٍ، أَيْ غَلَبَهُمْ، فَمَعْنَى قَوْلِهَا: لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ بَعْدُ، أَيْ لَمْ يَتَغَلَّبِ الْفَيْءُ عَلَى الشَّمْسِ فِي حُجْرَتِهَا، أَيْ لَمْ يَكُنِ الظِّلُّ فِي الْحُجْرَةِ أَكْثَرَ مِنَ الشَّمْسِ حِينَ صَلاةِ الْعَصْرِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اُس وقت پڑھتے تھے جبکہ سورج میرے حُجرے میں چمکتا تھا (یعنی دُھوپ موجود ہوتی تھی) سایہ پھیلا نہیں ہوتا تھا۔ احمد کہتے ہیں حجرتھا۔ یعنی سایہ اُن کے حُجرے میں پھیلا نہں ہوتا تھا۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل عرب کے نزدیک ظھور کے دو معنی ہیں۔ ایک معنی یہ ہے کہ ایک چیز ظاہر ہو جائے حتیٰ کہ وہ دکھائی دے اور واضح ہو جائے اُس میں کوئی پوشیدگی نہ رہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ ایک چیز دوسری پرغالب آجائے۔ جیسا کہ عرب کہتے ہیں کہ فلاں فلاں شخص پر ظا ہر ہو گیا ہے، اور فلاں کا لشکر فلاں کے لشکر پر ظاہر ہوگیا ہے۔ یعنی ان پر غالب آگیا ہے۔ لہٰذا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فرمان «لم يظهر الفيء بعد» کا مطلب یہ ہے کہ سایہ اُن کے حُجرے میں دھوپ پر غالب نہیں آیا تھا۔ یعنی نماز عصر کے وقت حُجرے میں سایہ دھوپ سے زیادہ نہیں تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 332]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 522، 544، 545، 546، 3103، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 611، ومالك فى (الموطأ) برقم: 5، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 332، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1450، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 504، وأبو داود فى (سننه) برقم: 407، والترمذي فى (جامعه) برقم: 159، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1223، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 683، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1729، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1001، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24729»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 332 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 332
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عصر اس کے اول وقت پر، جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو گیا تھا، جلد ادا کی تھی۔ [نووی: 808/5]
➋ عصر کی نماز اول وقت پر پڑھنا افضل ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بھی نمازِ عصر اول وقت پر پڑھنا تھا، لہٰذا حیلوں اور عذر تراشیوں سے قصداً نمازِ عصر کو مؤخر کرنا اور اسے دائمی معمول بنانا درست نہیں۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عصر اس کے اول وقت پر، جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو گیا تھا، جلد ادا کی تھی۔ [نووی: 808/5]
➋ عصر کی نماز اول وقت پر پڑھنا افضل ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بھی نمازِ عصر اول وقت پر پڑھنا تھا، لہٰذا حیلوں اور عذر تراشیوں سے قصداً نمازِ عصر کو مؤخر کرنا اور اسے دائمی معمول بنانا درست نہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 332]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 332 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق