صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
289. (56) بَابُ الْأَذَانِ لِلصَّلَاةِ بَعْدَ ذَهَابِ الْوَقْتِ.
نماز کا وقت گزر جانے کے بعد نمازوں کے لیے اذان دینے کا بیان
حدیث نمبر: 409
نا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، نا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنِ الصَّلاةِ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ: فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" يَا بِلالُ! قُمْ فَأَذِّنِ النَّاسَ بِالصَّلاةَ"
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے کہ ایک رات ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے تو کچھ لوگوں نے عرض کی اے اللہ کے رسول، اگر آپ ہمیں آخر شب پڑاؤ ڈالنے کی اجازت دے دیں (تو بہت اچھا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے خدشہ ہے کہ تم صبح کی نماز سے سوئے رہ جاؤ گے۔“ پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ اور کہا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال اُٹھو، لوگوں کو نماز کے لئے (جمع ہونے کے لئے) اذان دو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 409]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 595، 7471، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 681، وابن الجارود فى "المنتقى"، 171، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 409، 410، 989، 990، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1460، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 614، وأبو داود فى (سننه) برقم: 437، والترمذي فى (جامعه) برقم: 177، 1894، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 698، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1794، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1442، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22982»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 409 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 409
فوائد:
➊ چھوٹی ہوئی نماز کے لیے اذان و اقامت کہنا مشروع ہے، چنانچہ قاسم، ہادی، ناصر، ابوحنیفہ، احمد بن حنبل، ابوثور، مالک اور اوزاعی رحمہم اللہ کا مذہب ہے کہ چھوٹی ہوئی نماز کے لیے اذان و اقامت کہنا مستحب عمل ہے۔ [نیل الأوطار: 61/2]
➋ چھوٹی ہوئی نوافل و سنن ادا کرنا بھی مستحب فعل ہے۔
➌ شیطانی جگہوں سے اجتناب کر لینا چاہیے اور اگر ایسے مقامات پر انسان ہو تو ان سے کنارہ کشی کر لینی چاہیے۔
➍ اگر کوئی نماز کسی عذر کی وجہ سے یا بلا عذر چھٹ جائے تو یاد آنے پر اسے ادا کر لینا چاہیے، وقت گزرنے سے اس کی فرضیت ختم نہیں ہوتی۔
➊ چھوٹی ہوئی نماز کے لیے اذان و اقامت کہنا مشروع ہے، چنانچہ قاسم، ہادی، ناصر، ابوحنیفہ، احمد بن حنبل، ابوثور، مالک اور اوزاعی رحمہم اللہ کا مذہب ہے کہ چھوٹی ہوئی نماز کے لیے اذان و اقامت کہنا مستحب عمل ہے۔ [نیل الأوطار: 61/2]
➋ چھوٹی ہوئی نوافل و سنن ادا کرنا بھی مستحب فعل ہے۔
➌ شیطانی جگہوں سے اجتناب کر لینا چاہیے اور اگر ایسے مقامات پر انسان ہو تو ان سے کنارہ کشی کر لینی چاہیے۔
➍ اگر کوئی نماز کسی عذر کی وجہ سے یا بلا عذر چھٹ جائے تو یاد آنے پر اسے ادا کر لینا چاہیے، وقت گزرنے سے اس کی فرضیت ختم نہیں ہوتی۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 409]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 409 in Urdu
عبد الله بن أبي قتادة الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي