🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
302. ‏(‏69‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْقِبْلَةَ إِنَّمَا هِيَ الْكَعْبَةُ لَا جَمِيعُ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ قبلہ صرف کعبہ شریف ہے، پوری مسجد قبلہ نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q432
وَأَنَّ اللَّهَ- عَزَّ وَجَلَّ- إِنَّمَا أَرَادَهُ بِقَوْلِهِ‏:‏ ‏ [‏فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ‏) ‏؛ لِأَنَّ الْكَعْبَةَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَإِنَّمَا أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمِينَ أَنْ يُصَلُّوا إِلَى الْكَعْبَةَ إِذِ الْقِبْلَةُ إِنَّمَا هِيَ الْكَعْبَةُ لَا الْمَسْجِدُ كُلُّهُ، إِذِ اسْمُ الْمَسْجِدِ يَقَعُ عَلَى كُلِّ مَوْضِعٍ يُسْجَدُ فِيهِ‏.‏
اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان مبارک (فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ) اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف موڑ لیجیے سے مراد کعبہ شریف ہے کیونکہ کعبہ شریف مسجد حرام میں ہے-اور اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو کعبہ شریف کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے کیونکہ قبلہ صرف کعبہ شریف ہے پوری مسجد حرام نہیں،کیونکہ مسجد کا اطلاق تو اس پوری جگہ پر ہوتا ہے جہاں سجدہ کیا جاتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: Q432]


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 432
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْهُ، فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي قُبُلِ الْكَعْبَةِ، وَقَالَ: «هَذِهِ الْقِبْلَةُ»
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (فتح مکّہ والے دن) جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اُس کے تمام کونوں میں دعا مانگی اور باہر نکلنے تک اُس میں نماز نہیں پڑھی پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو کعبہ شریف کے سامنے دو رکعت ادا کیں اور فرمایا: ”یہ قبلہ ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 432]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1330، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 432، 3003، 3004، 3005، 3006، 3015، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3208، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1769، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2909، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2264، 3860، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22168»


صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 432 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 432
فوائد:
➊ اب کعبہ کے قریبی لوگوں پر لازم ہے کہ وہ بہر صورت کعبہ کی طرف رخ کریں اور کعبہ سے ذرا انحراف نہ کریں۔
➋ لیکن جو لوگ کعبہ سے دوری پر ہوں جہاں عین کعبہ کا تعین مشکل بلکہ ناممکن ہو تو جس سمت کعبہ ہے، اس سمت رخ کرنا کافی ہے، خواہ وہ عین قبلہ کی طرف رخ نہ کر سکیں، تب بھی ان کی نماز درست ہے۔
❀ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ.»
”مشرق اور مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔“ [جامع الترمذي: 342، سنن ابن ماجه: 1011، صحيح الجامع: 5584، إسناده صحيح]
◈ امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”یہ حدیث دلیل ہے کہ کعبہ سے دوری پر واقع لوگوں پر کعبہ کی جہت کی طرف رخ کرنا فرض ہے۔ لیکن عین قبلہ کی طرف منہ کرنا واجب نہیں اور امام مالک، ابو حنیفہ اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔“ [نيل الأوطار: 174/2]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 432]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 432 in Urdu