صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
304. (71) باب النهي عن التشبيك بين الأصابع عند الخروج إلى الصلاة.
نماز کی ادائیگی کے لیے جاتے ہوئے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنا منع ہے
حدیث نمبر: 439
نا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، نا عَبْدُ الْوَارِثِ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يَرْجِعَ فَلَا يَقُلْ هَكَذَا، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں وضو کرے پھرمسجد کی طرف آئے تو وہ واپس لوٹنے تک نماز ہی کے حُکم میں رہتا ہے۔ لہٰذا وہ ایسے نہ کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک ہاتھ کی) اُنگلیوں کو (دوسرے ہاتھ کی) اُنگلیوں میں ڈالا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 439]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 439، 440، 446، 447، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2149، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 749، 750، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1446، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 3332، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 838»
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 439 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 439
فوائد:
➊ نماز میں تشبیک (ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کرنا) مکروہ فعل ہے۔ [المغنی مع الشرح الکبیر: 697/1]
➋ ◈ شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: (احادیث الباب) دلیل ہیں کہ نماز کے لیے گھر سے مسجد کی طرف نکلنے کے وقت سے لے کر (نماز کے اختتام تک) تشبیک مکروہ عمل ہے۔ نیز نماز کی نیت سے مسجد کی طرف آنے والے شخص کو گھر سے نکلنے سے لے کر واپسی تک نماز ہی کا ثواب ملتا ہے۔ [نیل الاوطار: 350/2]
➌ کیا دورانِ نماز یا نماز سے قبل تشبیک کے مرتکب شخص کی نماز باطل ہوگی؟ راجح موقف کے مطابق ایسے شخص کی نماز باطل نہیں ہوگی، لیکن اس مکروہ فعل کے ارتکاب کی وجہ سے نماز میں نقص ضرور پیدا ہوگا، لہذا اس مکروہ فعل سے حتی الوسع اجتناب برتنا چاہیے۔
➊ نماز میں تشبیک (ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کرنا) مکروہ فعل ہے۔ [المغنی مع الشرح الکبیر: 697/1]
➋ ◈ شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: (احادیث الباب) دلیل ہیں کہ نماز کے لیے گھر سے مسجد کی طرف نکلنے کے وقت سے لے کر (نماز کے اختتام تک) تشبیک مکروہ عمل ہے۔ نیز نماز کی نیت سے مسجد کی طرف آنے والے شخص کو گھر سے نکلنے سے لے کر واپسی تک نماز ہی کا ثواب ملتا ہے۔ [نیل الاوطار: 350/2]
➌ کیا دورانِ نماز یا نماز سے قبل تشبیک کے مرتکب شخص کی نماز باطل ہوگی؟ راجح موقف کے مطابق ایسے شخص کی نماز باطل نہیں ہوگی، لیکن اس مکروہ فعل کے ارتکاب کی وجہ سے نماز میں نقص ضرور پیدا ہوگا، لہذا اس مکروہ فعل سے حتی الوسع اجتناب برتنا چاہیے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 439]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 439 in Urdu