صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
305. (72) بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْخُرُوجِ إِلَى الصَّلَاةِ
نماز کی ادائیگی کے لیے جاتے ہوئے دعا پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 448
نا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، نا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ، فَخَرَجَ إِلَى الصَّلاةِ، وَهُوَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي لِسَانِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ خَلْفِي نُورًا، وَمِنْ أَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، اللَّهُمَّ أَعْظِمْ لِي نُورًا" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَانَ فِي الْقَلْبِ مِنْ هَذَا الإِسْنَادِ شَيْءٌ، فَإِنَّ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ مُدَلِّسٌ، وَلَمْ أَقِفْ هَلْ سَمِعَ حَبِيبٌ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَمْ لا، ثُمَّ نَظَرْتُ، فَإِذَا أَبُو عَوَانَةَ رَوَاهُ عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ (ایک رات) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سوئے۔ وہ فرماتے ہیں کہ چنانچہ (صبح کے وقت) مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے ہوئے نماز کے لئے چل پڑے «اللَٰهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي لِسَانِىْ نُورًا, وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ خَلْفِيْ نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ أَمَامِيْ نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، اللَّهُمَّ عَظِّمْ لِىْ نُوْرًا» ” اے اللہ، میرے دل میں نور پیدا فرمادے، اور میری زبان میں نور کردے، اور میری سماعت میں نور کردے، اور میری بصارت میں نور فرمادے، میرے آگے نور کردے، میرے اوپر نور کردے، میرے نیچے نور کردے۔ اے اﷲ، میرے لئے نور کو عظیم کردے۔“ امام ابوبکر رحمہ اﷲ فرماتے ہیں کہ اس اسناد کے متعلق میرا دل مطمئن نہیں ہے۔ کیونکہ حبیب بن ابی ثابت مدلس ہے اور مجھے علم نہیں ہو سکا کہ آیا حبیب نے یہ روایت محمد بن علی سے سنی ہے یا نہیں؟ پھر میں نے (روایات میں) غور و فکر کیا تو (معلوم ہوا کہ) ابوعوانہ یہ روایت حصین کے واسطے سے حبیب بن ابی ثابت سے بیان کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ «حدثني محمد بن علي» ”مجھے محمد بن علی نے حدیث بیان کی“ (یعنی مدلس نے اپنے سماع کی صراحت کردی ہے)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 448]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 117، 138، 183، 697، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 256،، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 127، 448، 449، 884، 1093، 1094، 1103، 1119، 1121، 1524، 1533، 1534، 1675، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1445، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6335، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 441، وأبو داود فى (سننه) برقم: 58، 610، والترمذي فى (جامعه) برقم: 232، 3419، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 423، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 315، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1868»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 448 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 448
فوائد:
➊ مسجد جاتے وقت مذکورہ دعا کا اہتمام کرنا مسنون و مستحب فعل ہے۔
➋ ◈ علماء بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے تمام اعضاء اور تمام جہات میں نور کے سوال سے حق کا بیان، حق کی روشنی اور اس کی ہدایت طلبی مقصود ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام اعضاء، جسم، تصرفات و افعال، حالات اور (اوپر، نیچے، دائیں بائیں، آگے پیچھے) تمام جہات میں نور کا سوال اس لیے کیا کہ کوئی چیز اور حصہ کج روی کا شکار نہ ہو (اور انسان شریعت کے مکمل تابع رہے)۔ [شرح النووي: 44/6]
➌ ◈ علامہ سندھی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، اس نور سے مراد یا تو نیکی کی ہدایت اور توفیق ہے اور یہ توفیق تمام اعضاء کو شامل ہے کیونکہ نیکی کے آثار تمام اعضاء میں ظاہر ہوتے ہیں یا اس نور سے مقصود حقیقی نور ہے کہ روز قیامت اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اعضاء کو نور سے منور کرے گا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیروکار اس دن کے سخت اندھیرے میں روشنی حاصل کریں گے۔ [شرح سنن النسائي: 294/2]
➊ مسجد جاتے وقت مذکورہ دعا کا اہتمام کرنا مسنون و مستحب فعل ہے۔
➋ ◈ علماء بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے تمام اعضاء اور تمام جہات میں نور کے سوال سے حق کا بیان، حق کی روشنی اور اس کی ہدایت طلبی مقصود ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام اعضاء، جسم، تصرفات و افعال، حالات اور (اوپر، نیچے، دائیں بائیں، آگے پیچھے) تمام جہات میں نور کا سوال اس لیے کیا کہ کوئی چیز اور حصہ کج روی کا شکار نہ ہو (اور انسان شریعت کے مکمل تابع رہے)۔ [شرح النووي: 44/6]
➌ ◈ علامہ سندھی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، اس نور سے مراد یا تو نیکی کی ہدایت اور توفیق ہے اور یہ توفیق تمام اعضاء کو شامل ہے کیونکہ نیکی کے آثار تمام اعضاء میں ظاہر ہوتے ہیں یا اس نور سے مقصود حقیقی نور ہے کہ روز قیامت اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اعضاء کو نور سے منور کرے گا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیروکار اس دن کے سخت اندھیرے میں روشنی حاصل کریں گے۔ [شرح سنن النسائي: 294/2]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 448]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 448 in Urdu
علي بن عبد الله القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي