صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
351. (118) بَابُ إِبَاحَةِ تَرْدَادِ الْمُصَلِّي قِرَاءَةَ السُّورَةِ الْوَاحِدَةِ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ.
فرض نماز کی دونوں رکعتوں میں نمازی کا ایک ہی سورت کو باربار پڑھنا جائز ہے
حدیث نمبر: 537
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ يَؤُمُّهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ، قَالَ: وَكَانَ كُلَّمَا افْتَتَحَ سُورَةً يَقْرَأُ بِهَا فِي الصَّلاةِ مِمَّا يَقْرَأُ بِهِ افْتَتَحَ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا، ثُمَّ يَقْرَأُ بِسُورَةٍ أُخْرَى مَعَهَا، وَكَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، فَلَمَّا أَتَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرُوهُ بِالْخَبَرِ، فَقَالَ:" يَا فُلانُ، مَا يَحْمِلُكَ عَلَى لُزُومِ هَذِهِ السُّورَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ؟"، قَالَ: إِنِّي أُحِبُّهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حُبُّهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری صحابی اُنہیں مسجد قبا میں نماز پڑھاتے تھے، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ جب بھی نماز میں کسی سورت کی تلاوت کرتے تو قراءت کی ابتداء «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» [ سورة الإخلاص ] سے کرتے، حتیٰ کہ اس سے فارغ ہو جاتے تو پھر اس کے ساتھ ایک اور سورت تلاوت کرتے۔ وہ ہر رکعت میں اسی طرح کرتے۔ پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے تو اُنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”اے فلان، ہر رکعت میں اسی سورت کی تلاوت کرنے پر کس چیز نے اُبھارا ہے؟“ اُس نے عرض کی کہ مجھے اس سے بڑی محبت ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سورت کی محبت تجھے جنّت میں داخل کر دے گی۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 537]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 537، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 792، 794، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 885، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2901، 2901 م، والدارمي فى (مسنده) برقم: 3478، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2507، 2508، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12627»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 537 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 537
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ سمیت دو سورتوں کی تلاوت کرنا جائز ہے۔
اور اس میں پہلی رکعتوں اور آخری دو رکعتوں میں کوئی فرق نہیں، کیونکہ اس حدیث میں ہر رکعت میں اس عمل کا بیان ہے جو آخری دو رکعات کو بھی شامل ہے۔ [نیل الاوطار: 266/2]
➋ نماز میں قرأتِ قرآن کی ترتیب ملحوظ رکھنا واجب نہیں بلکہ یہ حدیث دلیل ہے کہ بلا ترتیب سورتوں کی تلاوت جائز ہے، کیونکہ اس صحابی کا معمول تھا کہ ہر نماز میں سورۂ فاتحہ کے بعد ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ﴾ [سورة الإخلاص: 1] ، پھر کسی اور سورت کی تلاوت کرتے تھے اور نمازِ فجر، ظہر، عصر اور عشاء میں لازماً مفصل سورتوں کی قرأت کرتے ہوں گے، جن کی ترتیب لا محالہ ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] سے پہلے ہے اور اگر ترتیب واجب ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابی کو اس فعل پر ضرور تنبیہ کرتے۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ سمیت دو سورتوں کی تلاوت کرنا جائز ہے۔
اور اس میں پہلی رکعتوں اور آخری دو رکعتوں میں کوئی فرق نہیں، کیونکہ اس حدیث میں ہر رکعت میں اس عمل کا بیان ہے جو آخری دو رکعات کو بھی شامل ہے۔ [نیل الاوطار: 266/2]
➋ نماز میں قرأتِ قرآن کی ترتیب ملحوظ رکھنا واجب نہیں بلکہ یہ حدیث دلیل ہے کہ بلا ترتیب سورتوں کی تلاوت جائز ہے، کیونکہ اس صحابی کا معمول تھا کہ ہر نماز میں سورۂ فاتحہ کے بعد ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ﴾ [سورة الإخلاص: 1] ، پھر کسی اور سورت کی تلاوت کرتے تھے اور نمازِ فجر، ظہر، عصر اور عشاء میں لازماً مفصل سورتوں کی قرأت کرتے ہوں گے، جن کی ترتیب لا محالہ ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] سے پہلے ہے اور اگر ترتیب واجب ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابی کو اس فعل پر ضرور تنبیہ کرتے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 537]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 537 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري