صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
367. (134) بَابُ اسْتِحْبَابِ سُجُودِ الْمُسْتَمِعِ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عِنْدَ قِرَاءَةِ الْقَارِئِ السَّجْدَةَ إِذَا سَجَدَ.
قران پڑھنے والا آیتِ سجدہ پر جب سجدہ کرے تو قرآن مجید کی تلاوت سننے والے کے لیے سجدہ تلاوت کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 558
نَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ، نا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كُنَّا نَقْرَأُ السَّجْدَةَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَسْجُدُ، وَنَسْجُدُ مَعَهُ حَتَّى يَزْحَمَ بَعْضُنَا بَعْضًا"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں آیت ِ سجدہ تلاوت کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم (جگہ تنگ ہونے کی بنا پر) ایک دوسرے کو دھکیلتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 558]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1075، 1076، 1079، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 575، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 557، 558، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2760، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 813، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1412، 1413، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3763، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4760»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 558 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 558
فوائد:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ قاری جب سجدہ کی آیت تلاوت کرے اور سجدہ کرے تو سامع کے لیے بھی سجدہ کرنا مشروع ہے۔
یہ احادیث دلیل ہیں کہ قاری جب سجدہ کی آیت تلاوت کرے اور سجدہ کرے تو سامع کے لیے بھی سجدہ کرنا مشروع ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 558]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 558 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي